World
یوکرین کا کورسک حملہ: سینکڑوں روسی شہریوں کی گمشدگی کا معمہ برقرار
یوکرین کی جانب سے سال 2024 کے دوران کورسک کے علاقے پر کیے گئے اچانک حملے کے بعد تین سو سے زائد روسی شہری اب تک لاپتہ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اصل اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں کیونکہ متاثرہ خاندانوں کو تاحال کوئی واضح جواب نہیں مل سکا۔
یوکرین کی طرف سے سال 2024 میں روس کے سرحدی علاقے کورسک پر کیے گئے اچانک اور غیر متوقع حملے کو طویل عرصہ بیت چکا ہے، لیکن اس کے اثرات اور انسانی المیے اب بھی برقرار ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اس فوجی کارروائی اور جھڑپوں کے نتیجے میں تین سو سے زائد روسی شہری تاحال لاپتہ ہیں، جن کے بارے میں کوئی حتمی معلومات فراہم نہیں کی جا سکی ہیں۔ مقامی حکام اور متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ جنگی صورتحال کی وجہ سے اصل اعداد و شمار منظر عام پر آنے والے نمبرز سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔
حملے کے بعد سے لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین حکومتی اور فوجی اداروں کے دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں تاکہ انہیں اپنے پیاروں کی سلامتی یا ان کے بارے میں کوئی مصدقہ خبر مل سکے۔ تاہم، اب تک کی جانے والی کوششیں خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکی ہیں اور متعلقہ حکام بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس افراتفری کے عالم میں درست اعداد و شمار کا تعین کرنا انتہائی مشکل امر بن چکا ہے۔
روسی سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے اداروں نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کے بارے میں شفافیت سے کام لیا جائے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جنگ کے دوران سرحدی علاقوں میں عام شہریوں کا متاثر ہونا اور ان کا طویل عرصے تک لاپتہ رہنا اس تنازع کا ایک انتہائی تاریک اور تکلیف دہ پہلو ہے، جس کے زخم متاثرہ خاندانوں کے لیے طویل عرصے تک تازہ رہیں گے۔