World
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان باب المندب میں جھڑپیں
باب المندب کے قریب سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے مابین شدید حملوں کا تبادلہ ہوا ہے جس سے خطے میں جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران ان پر ایک سو انتیس فضائی حملے کیے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت خطرناک حد تک بڑھ گئی جب باب المندب کے اسٹریٹجک آبی راستے کے قریب سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے مابین فضائی اور زمینی حملوں کا شدید تبادلہ ہوا۔ اس تازہ ترین کشیدگی نے خطے میں ایک اور بڑی جنگ کے خدشات کو جنم دے دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یمنی حوثی تحریک کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سعودی اتحاد نے محض اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندر ایک سو انتیس فضائی حملے کیے ہیں۔ حوثی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد خطے میں ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا اور ان کی پیش قدمی کو روکنا ہے۔ دوسری طرف، اس صورتحال نے سعودی عرب کی تیل کی صنعت اور اہم اقتصادی تنصیبات پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے حوالے سے خوف کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ باب المندب کا علاقہ عالمی تجارت اور خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اور یہاں جاری اس تصادم سے عالمی منڈی میں توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری اور سفارتی حلقے اس تشویشناک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے، کیونکہ حالیہ جھڑپیں پہلے سے ہی تنازعات کا شکار خطے میں امن کی کوششوں کے لیے ایک بہت بڑا دھکا ثابت ہو رہی ہیں۔