World
الاسکا سمندر میں دو دن کشتی سے چمٹے رہنے والا نوجوان ریسکیو
الاسکا کے بیئرنگ سمندر میں الٹی ہوئی کشتی سے دو دن تک چمٹے رہنے والے پندرہ سالہ لڑکے کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔ اس معجزانہ ریسکیو نے سب کو دنگ کر دیا ہے جہاں نوجوان نے انتہائی کٹھن حالات میں اپنی جان بچائی۔
الاسکا کے خطرناک اور سرد پانیوں میں پیش آنے والے ایک انتہائی سنسنی خیز واقعے میں پندرہ سالہ نوجوان کو معجزانہ طور پر زندہ بچا لیا گیا ہے۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ریاست الاسکا کے بیئرنگ سمندر میں پیش آیا جہاں یہ کم عمر لڑکا اپنی الٹی ہوئی کشتی سے مسلسل دو دن تک چمٹا رہا۔ اس دوران سمندر کی بلند لہریں اور انتہائی سرد موسم اس کی زندگی کے لیے مسلسل خطرہ بنے رہے لیکن اس کی حوصلہ مندی نے اسے موت کے منہ سے واپس کھینچ لیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، پندرہ سالہ یہ لڑکا کسی سمندری سفر یا تفریح کے دوران حادثے کا شکار ہوا جس کے نتیجے میں اس کی کشتی اچانک الٹ گئی۔ کشتی کے الٹنے کے بعد وہ تیر کر اس کے پیندے یا کسی ابھرے ہوئے حصے سے چمٹ گیا اور پوری مصیبت کے دوران اسی پوزیشن پر قائم رہا۔ بغیر کسی خوراک، پینے کے پانی اور حفاظتی سامان کے کھلے سمندر میں دو شب و روز گزارنا انسانیت کے لیے ایک ناقابل یقین کارنامہ سمجھا جا رہا ہے۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ جب اس نوجوان کو تلاش کیا گیا تو وہ شدید تھکن، سردی اور صدمے کی حالت میں تھا لیکن اس کی سانسیں بحال تھیں۔ امدادی ٹیموں نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے اسے پانی سے نکالا اور طبی امداد فراہم کرنے کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق لڑکے کی حالت خطرے سے باہر ہے تاہم اسے شدید سردی کے اثرات سے نکالنے کے لیے طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر بحری سفر کے دوران حفاظتی تدابیر کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، جبکہ مقامی افراد اور ریسکیو حکام نے اس کم عمر لڑکے کے حوصلے اور زندہ رہنے کی جبلت کو شاندار خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھلے سمندر میں دو دن تک اس طرح کی موسمی سختیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے زندہ رہنا تاریخ کے ان چند معجزات میں سے ایک ہے جن پر فوری طور پر یقین کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔