AI
مصنوعی ذہانت کی ترقی انسانیت کے لیے خطرہ بن گئی
مصنوعی ذہانت کے معروف محقق کی جانب سے حفاظتی خدشات کا اظہار کرنے کے بعد دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر نگرانی کے مصنوعی ذہانت کی ترقی انسانی نسل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
برطانوی مصنوعی ذہانت کے محقق جیکب کوکسن، جو معروف ٹیک کمپنیوں اینتھروپک اور اوپن اے آئی کے ساتھ کام کر چکے ہیں، کی جانب سے اٹھائے گئے سنگین حفاظتی خدشات کے بعد دنیا بھر کے تکنیکی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ جیکب کوکسن نے حال ہی میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے تاکہ وہ اے آئی کی ترقی کے ممکنہ خطرناک اثرات پر کھل کر بات کر سکیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کی ترقی کو مناسب ضابطوں اور حفاظتی اصولوں کے تحت کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ آنے والے وقتوں میں انسانیت کے لیے زبردست تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔
ٹیک انڈسٹری کے اندر اور باہر سے تعلق رکھنے والے کئی دیگر پیشہ ور افراد نے بھی اس مؤقف کی تائید کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ جس تیزی سے مشین لرننگ اور اے آئی سسٹمز آگے بڑھ رہے ہیں، انسانوں کا ان پر سے کنٹرول ختم ہو سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر سخت اور مؤثر ضابطہ اخلاق نہیں بنائے جاتے، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے تجارتی مفادات کی خاطر انسانی معاشرے کو داؤ پر لگا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے پالیسی سازوں اور حکومتوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا اے آئی کی اس اندھی دوڑ کو لگام دینے کا وقت آ گیا ہے۔
ماضی میں بھی کئی سائنسدان اور ماہرین ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت کے حوالے سے خبردار کرتے آئے ہیں، تاہم حالیہ استعفے اور اندرونی ذرائع کے بیانات نے اس بحث کو ایک بار پھر سرگرم کر دیا ہے۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ اے آئی ریسرچ میں سیفٹی کو سب سے اوپر رکھا جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مستقبل کی ٹیکنالوجی انسانیت کی دشمن نہیں بلکہ معاون ثابت ہو۔ اگر اس مرحلے پر غفلت برتی گئی تو اس کے نتائج ناگوار اور ناقابل تلافی ہو سکتے ہیں۔