LIVE
Loading Breaking News...

کوسٹ گارڈ کنٹریکٹر کی برطرفی کا معاملہ، ٹرمپ کے ڈی ایچ ایس کے خلاف مقدمہ منظور

News Image
برطرف کوسٹ گارڈ کنٹریکٹر نے قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے بارے میں سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے برطرفی کے خلاف قانونی جنگ جیت لی ہے۔ وفاقی جج نے ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کی مقدمہ خارج کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے مقدمے کو آگے بڑھانے کی اجازت دے دی ہے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) اور کوسٹ گارڈ کے ایک سابق کنٹریکٹر کو اس وقت ایک بڑی قانونی فتح حاصل ہوئی جب ایک وفاقی جج نے ان کی برطرفی کے خلاف دائر کردہ مقدمے کو خارج کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ اس سابق کنٹریکٹر کا دعویٰ تھا کہ اسے معروف قدامت پسند کارکن اور مبصر چارلی کرک کے بارے میں کی جانے والی سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے نوکری سے نکالا گیا تھا۔ عدالت کی جانب سے اس مقدمے کو آگے بڑھانے کی اجازت دیے جانے کے بعد اب اس معاملے پر مزید اہم سماعتوں کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یہ مقدمہ اظہار رائے کی آزادی اور سرکاری اداروں میں کام کرنے والے افراد کے حقوق کے حوالے سے انتہائی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مدعی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کے خیالات کو بنیاد بنا کر اسے غیر قانونی طور پر نوکری سے برطرف کیا گیا جو کہ اس کے بنیادی آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب حکام کی جانب سے اس برطرفی کے دفاع میں مختلف دلائل دیے گئے تھے جنہیں فی الحال عدالت نے ناکافی قرار دیتے ہوئے مقدمے کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں اس نوعیت کے دیگر مقدمات کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد اب ڈی ایچ ایس کے حکام کو اس کیس میں مزید قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ مدعی کے وکلاء نے اس فیصلے کو اظہار رائے کی آزادی کی بڑی فتح قرار دیا ہے۔ اس کیس کی آئندہ سماعتوں کے دوران دونوں جانب سے مزید شواہد اور دلائل پیش کیے جانے کا امکان ہے جن پر ملکی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔