World
لائم بائیکس فٹ پاتھ پر قبضہ: رینٹل بائیکس کے قوانین اور مشکلات
برطانیہ بھر میں فٹ پاتھوں پر بے ترتیبی سے کھڑی کی جانے والی لائم بائیکس کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے۔ ایک نئی تحقیقی رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے سواروں کو سزاؤں سے بچایا جا رہا ہے۔
برطانیہ بھر کے شہروں میں لائم بائیکس (Lime bikes) کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی فٹ پاتھوں پر بے ہنگم پارکنگ نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ یہ بائیکس اکثر پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہیں، جس سے بالخصوص معذور افراد اور بزرگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیقی انکشاف کے مطابق، ان کرائے کی بائیکس کو غلط طریقے سے کھڑا کرنے والوں کے خلاف کوئی سخت جرمانہ یا تادیبی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی، جس کی وجہ سے مسئلہ دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، لائم بائیکس چلانے والے افراد اکثر مقررہ پارکنگ زونز کے بجائے کہیں بھی اپنی سواری چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اس لاپرواہی کی وجہ سے فٹ پاتھ بلاک ہو جاتے ہیں اور راہگیروں کا گزرنا محال ہو جاتا ہے۔ کمپنی اور مقامی انتظامیہ کے درمیان ضابطہ کار کی کمزوریوں کے باعث یہ سوار آسانی سے بچ نکلتے ہیں اور انہیں کسی قسم کے جرمانے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ شہری تنظیموں اور مقامی آبادی کی جانب سے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، لیکن تحال کوئی خاطر خواہ حل سامنے نہیں آ سکا ہے۔
شہری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ اداروں نے فوری طور پر سخت اقدامات نہ کیے اور جرمانوں کا نظام نافذ نہ کیا، تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ رینٹل بائیک کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنی سواریوں کی درست پارکنگ کو یقینی بنائیں اور قوانین توڑنے والے صارفین کے اکاؤنٹس معطل کیے جائیں۔ تب تک، عام شہریوں کو اس عذاب سے نجات ملتی دکھائی نہیں دیتی جو آئے روز سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر بکھری ان بائیکس کی شکل میں ان کے سامنے آتا ہے۔