LIVE
Loading Breaking News...

ایل بی ٹی سی ٹریڈنگ کا آغاز اور ریزرو کی صورتحال

News Image
کرپٹوسلیٹ کی رپورٹ کے مطابق ایل بی ٹی سی نے دوبارہ ٹریڈنگ کا آغاز کر دیا ہے جبکہ اس کے ریزرو اس کی کل سپلائی کا صرف پچاسی فیصد سے زائد کور کرتے ہیں۔ آن چین ڈیٹا کے مطابق فیڈریشن کے اخراج تاحال معطل ہیں اور لائیو مارکیٹ کی گہرائی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت کے تحت ایل بی ٹی سی (L-BTC) نے باضابطہ طور پر اپنی ٹریڈنگ کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔ تاہم، مارکیٹ کے مبصرین اور ماہرین نے اس بحالی پر تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس کے ریزرو اس وقت کل سپلائی کا محض 85 فیصد حصہ ہی کور کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن گئی ہے جو اس اثاثے کی طویل مدتی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ دس ستمبر کو لی گئی ایک آن چین تصویر یا سنیپ شاٹ سے یہ انکشاف سامنے آیا کہ ایل بی ٹی سی کی بیکنگ یا پشت پناہی صرف 85.15 فیصد تک محدود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ میں موجود تمام کوائنز کو مکمل مالیاتی تحفظ حاصل نہیں ہے، جو کہ عام طور پر کرپٹو پراجیکٹس میں ایک صحت مند علامت نہیں مانی جاتی۔ اس کے علاوہ، فیڈریشن کی طرف سے پیگ آؤٹس (peg-outs) کا عمل تاحال معطل ہے، جس کی وجہ سے فنڈز کی نکاسی اور باضابطہ تبادلے کے عمل میں شدید رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں لائیو مارکیٹ کی گہرائی کا اندازہ لگانا بھی فی الحال ممکن نہیں ہو سکا۔ مارکیٹ ڈیپتھ کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ جاننا مشکل ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر خریدو فروخت شروع ہوتی ہے تو اس کے قیمتوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سرمایہ کاروں اور تاجروں کو اس غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر انتہائی محتاط رہنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ مجموعی طور پر، ایل بی ٹی سی کی جانب سے ٹریڈنگ کی بحالی نے مارکیٹ میں ایک ہلچل ضرور مچا دی ہے، لیکن ریزرو کی کمی اور فیڈریشن کے معاملات معطل رہنے کی وجہ سے خطرات بدستور برقرار ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ متعلقہ حکام اس مالیاتی فرق کو پر کرنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کیا اقدامات اٹھاتے ہیں۔ تب تک مارکیٹ کے شرکاء کو انتہائی چوکنا رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔