LIVE
Loading Breaking News...

آبِ ہرمز میں جہاز پر حملہ، تیل کی سپلائی کے خطرات بڑھ گئے

News Image
آبِ ہرمز اور خلیج عمان میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ حالیہ کارروائیوں اور حملوں کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
آبِ ہرمز اور اس سے ملحقہ سمندری حدود میں تجارتی جہاز رانی پر حالیہ حملوں کی نئی رپورٹس سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کو لاحق خطرات کے حوالے سے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ برطانوی میری ٹائم اتھارٹی اور دیگر عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران جنگی کشیدگی اور حملوں کے نتیجے میں متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے خطے میں ٹرانسپورٹ اور تجارت کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق خلیج عمان اور آبِ ہرمز کے اہم بحری راستے پر دو جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ایک اور واقعے میں نامعلوم گولہ بارود لگنے سے ایک شخص کے ہلاک ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ ایرانی حکام اور متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آبِ ہرمز کے قریب ایک جہاز حملے کی زد میں آیا ہے۔ میری ٹائم سیکورٹی اداروں نے اس صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے جہاز رانی کرنے والی کمپنیوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ سمندری راستہ دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی براہ راست عالمی توانائی کی مارکیٹس کو متاثر کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبِ ہرمز میں سیکیورٹی کے خدشات برقرار رہے تو اس کے عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی طاقتیں اور علاقائی ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ بحری تجارت کو محفوظ بنایا جا سکے اور کسی بھی بڑے بحران کو روکا جا سکے۔