Politics
نئے صوبوں کا قیام: رانا ثناء اللہ نے فیصلہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کہا ہے کہ اس اہم معاملے کا حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا چاہیے۔ دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان نے بھی نئے صوبے کے قیام کے لیے دباؤ بڑھاتے ہوئے شہری سندھ کے مؤقف کو انتہائی مضبوط قرار دیا ہے۔
پاکستان میں ایک بار پھر انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی بحث زور پکڑ گئی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بنانے یا نہ بنانے کے حوالے سے تمام تر فیصلے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے آئینی اور انتظامی امور پر سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ کے فورم پر بیٹھ کر سنجیدہ بحث کرنی چاہیے تاکہ وسیع تر قومی مفاہمت کے بعد کوئی قدم اٹھایا جا سکے۔
دوسری جانب سیاسی حلقوں میں اس موضوع پر گرما گرم بحث جاری ہے اور ایم کیو ایم پاکستان نے بھی نئے صوبے کے قیام کے مطالبات میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ شہری سندھ کے حقوق اور دیرینہ مسائل کے حل کے لیے نئے صوبے کا مقدمہ اس وقت تمام معاملات میں سب سے زیادہ مضبوط ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی مشکلات کے پیش نظر اب وقت آ گیا ہے کہ سندھ اور ملک کے دیگر حصوں میں نئے انتظامی یونٹس بنانے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
ملک کے سیاسی منظر نامے میں یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مختلف سیاسی جماعتیں آئینی اصلاحات، گورننس کے مسائل اور عوامی فلاح و بہبود کے امور پر الگ الگ مؤقف رکھتی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام ایک حساس سیاسی اور آئینی عمل ہے جس کے لیے محض بیانات کافی نہیں بلکہ سیاسی اتفاق رائے ناگزیر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کے اندر اس معاملے پر کیا پیش رفت ہوتی ہے اور دیگر بڑی سیاسی جماعتیں اس حساس مسئلے پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں۔