LIVE
Loading Breaking News...

پی ٹی آئی 27 ستمبر احتجاج: کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن اور عدالتی کارروائی

News Image
تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ سے قبل کارکنان کی گرفتاریوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ریاست کی مشینری کے استعمال اور احتجاج سے متعلق امور پر بھی سماعت جاری ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو متوقع احتجاج اور لانگ مارچ کے پیش نظر انتظامیہ نے سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پارٹی کارکنان اور رہنماؤں کو مختلف مقامات پر حراست میں لیا جا رہا ہے تاکہ احتجاج کی تیاریوں کو کمزور کیا جا سکے۔ اس صورتحال میں پی ٹی آئی پنجاب کے رہنماؤں نے اس دباؤ اور حالات کے پیش نظر احتجاجی لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ دوسری جانب، اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس احتجاج سے متعلق اہم قانونی امور زیر بحث ہیں۔ عدالت نے اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ سیاسی احتجاج کے لیے ریاستی مشینری کا استعمال نہ کیا جائے اور اس سلسلے میں متعلقہ فریقین سے حلف نامے طلب کیے گئے ہیں۔ عدالت کی طرف سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ سیاسی نوعیت کے احتجاج اور دھرنے بار بار دارالحکومت کو ہی کیوں نشانہ بناتے ہیں، جس سے عام شہریوں کی نقل و حرکت اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ اس کشیدہ سیاسی ماحول میں ٹرانسپورٹرز کی برادری نے بھی حکومت کی جانب سے احتجاج کو روکنے کے لیے گاڑیوں اور کنٹینرز کو تحویل میں لینے (امپاؤنڈ کرنے) کی شدید مخالفت کی ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ان کے ذرائع آمدورفت کو زبردستی روکنے سے تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہو رہی ہیں اور انہیں شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی کشمکش میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کو براہ راست نہ گھسیٹا جائے۔ حالیہ سیاسی ڈیڈ لاک کے بعد دونوں طرف سے بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لیے پرعزم ہے تو دوسری طرف انتظامیہ اور عدالتیں امن و امان کی بحالی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس احتجاج کی حتمی صورتحال اور قانونی فیصلوں کے بعد سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔