LIVE
Loading Breaking News...

حوثیوں کا سعودی اڈے پر حملہ، یمن میں جھڑپیں تیز

News Image
یمن میں حوثی باغیوں نے ایک سعودی فوجی اڈے پر حملے کا دعویٰ کیا ہے جس کے بعد مقامی یمنی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں شدید تیزی آ گئی ہے۔ یہ تازہ کشیدگی خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
یمن میں سرگرم حوثی باغیوں نے ایک بار پھر سعودی عرب کے ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں حوثیوں اور سرکاری یمنی فورسز کے درمیان مسلح جھڑپوں میں شدید تیزی آ گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تازہ ترین پیشرفت نے خطے میں امن کی کوششوں کو ایک اور دھچکا پہنچایا ہے اور دونوں فریقین کے مابین محاذ آرائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے اندر واقع ایک اہم فوجی تنصیب پر ڈرون یا میزائل حملہ کیا ہے۔ اگرچہ سعودی حکام کی جانب سے اس مبینہ حملے کی فوری طور پر کوئی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے، تاہم اس دعوے کے بعد یمن کے محاذوں پر سکیورٹی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان براہ راست لڑائی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور فائرنگ کے شدید تبادلے کی اطلاعات ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری اس طویل تنازعے کا کوئی پرامن حل تاحال ناگزیر دکھائی نہیں دے رہا، اور وقتاً فوقتاً ہونے والے ایسے حملے اور جھڑپیں خطے میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی برادری کی توجہ اس دیرینہ تنازعے کی جانب مبذول کرا دی ہے جہاں عام شہریوں کی زندگیاں براہِ راست متاثر ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی طاقتیں یمن میں مکمل جنگ بندی کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ جب تک بااعتماد سیاسی بات چیت کا آغاز نہیں ہوتا، اس طرح کے حملے اور جھڑپیں خطے میں عدم استحکام کی بڑی وجہ بنی رہیں گی اور امن کا حصول ایک چیلنج رہے گا۔