World
ایران اور امریکہ کشیدگی: مشرق وسطیٰ کو علاقائی پولیس مین کی ضرورت نہیں
ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے تناظر میں کہا ہے کہ خطے میں کسی دوسرے ملک کی بالادستی قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ تہران دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا اور مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔
تہران: ایران کے صدر نے امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں جاری محاذ آرائی کے پیش نظر انتہائی سخت اور واضح مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو کسی بھی 'علاقائی پولیس مین' کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تہران میں اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی قیادت کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک اپنے معاملات خود سلجھانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
ایرانی حکام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ حالیہ جنگ اور محاذ آرائی کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے، تاہم تہران دباؤ، دھونس اور دھمکیوں کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائے گا۔ ایران کا ماننا ہے کہ پاکستان اور اومان کے ساتھ ہونے والی بات چیت تہران کی وجہ سے ناکام نہیں ہوئی بلکہ ایران نے ہمیشہ خطے میں سفارت کاری اور بات چیت کو ترجیح دی ہے۔ ایرانی صدر نے ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ منصفانہ اور باوقار مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری لفظی جنگ اور محاذ آرائی سے خطے میں عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ خلیجی ممالک کی جانب سے بھی دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے کیونکہ کسی بھی ممکنہ جنگ کے اثرات پوری دنیا کی معیشت اور توانائی کی سپلائی پر براہ راست مرتب ہوں گے۔