LIVE
Loading Breaking News...

اسٹیٹ بینک آف پاکستان مہنگائی کی بڑھتی ہوئی لہر کے باعث کٹہرے میں

News Image
ملک میں مہنگائی کی شرح میں حالیہ اضافے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو مالیاتی پالیسی تشکیل دینے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مرکزی بینک کے لیے شرح سود اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
ملک بھر میں مہنگائی کی شرح میں ہونے والے حالیہ اضافے نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ایک انتہائی مشکل اور نازک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ معاشی مبصرین اور ماہرین کے مطابق مرکزی بینک کے حکام کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج بڑھتی ہوئی مہنگائی کو قابو میں لانا اور ساتھ ہی ساتھ معاشی سرگرمیوں کو رواں رکھنا ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے عام آدمی کی مشکلات میں پہلے ہی اضافہ ہو چکا ہے، اور اب مانیٹری پالیسی کمیٹی کے لیے آئندہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرنا بھی پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کو ماضی میں بھی افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی کا سہارا لینا پڑا ہے، جس میں شرح سود کو بلند سطح پر رکھا گیا۔ تاہم، حالیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مہنگائی کے دباؤ میں توقع کے مطابق کمی واقع نہیں ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ملکی معاشی ماہرین کی نظریں مرکزی بینک کے اگلے اقدامات پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ شرح سود میں کمی یا اضافے کے حوالے سے کیا حکمت عملی اپناتا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسٹیٹ بینک شرح سود میں مزید اضافہ کرتا ہے تو اس سے کاروباری سرگرمیوں اور صنعتی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے، جو پہلے ہی ملکی اقتصادی حالات کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہیں۔ دوسری طرف، اگر شرح سود کو کم یا برقرار رکھا جاتا ہے تو افراط زر کے بے قابو ہونے کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی بینک اس وقت دو دھاری تلوار پر چل رہا ہے اور اسے انتہائی پھونک پھونک کر قدم اٹھانا پڑ رہا ہے۔ حکومت اور مرکزی بینک کے مابین اس معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے رابطے بھی جاری ہیں تاکہ مالیاتی اور تجارتی امور کو بہتر سمت دی جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے اعلان کی جانے والی نئی مانیٹری پالیسی اس بات کا تعین کرے گی کہ ملکی معیشت اس دباؤ سے نکلنے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے اور عام عوام کو مہنگائی سے کب تک ریلیف مل سکتا ہے۔