AI
مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے خطرہ، سابق محقق کی وارننگ
انتھروپک کے سابق محقق جیکب کوکسن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی رفتار پر قابو نہ پایا گیا تو یہ انسانیت کے خاتے کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی سسٹمز پر کام کرنے والے اندرونی عملے میں انسانی مستقبل کو لے کر حقیقی خوف پایا جاتا ہے۔
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی دنیا سے ایک انتہائی تشویشناک خبر سامنے آئی ہے جہاں معروف اے آئی کمپنی 'انتھروپک' کے ایک سابق محقق جیکب کوکسن نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والا عملہ انسانیت کے مستقبل کے حوالے سے شدید خوف کا شکار ہے۔ جیکب کوکسن کے مطابق، اندرونی طور پر کام کرنے والے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر موجودہ رفتار سے اے آئی کی ترقی کا سلسلہ جاری رہا اور اس پر عالمی سطح پر کوئی سخت ضابطہ کار یا قدغن نہ لگائی گئی، تو اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بالآخر بنی نوع انسان کے خاتمے کا سبب بن جائے۔ جیکب کوکسن کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں روز بروز حیرت انگیز اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑی ٹیک کمپنیاں زیادہ طاقتور اور خود مختار ماڈلز بنانے کی دوڑ میں مصروف ہیں، تاہم اس دوڑ کے ممکنہ منفی اور تباہ کن اثرات پر اب اندرون خانہ سے بھی آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ سابق محقق نے زور دیا ہے کہ اے آئی کی ترقی کے خطرات کو محض سائنسی فکشن یا فرضی کہانیاں سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی انسانی کنٹرول سے باہر نکلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس ٹیکنالوجی کو اندر سے بنا رہے ہیں، وہی اس کے ممکنہ نتائج سے سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں۔ ماہرین اور سول سوسائٹی کی جانب سے طویل عرصے سے یہ مطالبات کیے جا رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے، تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناقابل تلافی نقصان سے بچا جا سکے۔ جیکب کوکسن کی اس تازہ ترین وارننگ نے ٹیک انڈسٹری میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے اور پالیسی سازوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اے آئی کی ترقی کے ضابطوں کو مزید سخت کریں۔