World
یورپ اور روس: پوتین پر دباؤ کے لیے مشکل سردیوں کا سامنا، جوناتھن پاول کا بیان
برطانوی وزیرِ اعظم کے اعلیٰ سکیورٹی مشیر جوناتھن پاول نے خبردار کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے یورپی ممالک کو مشکل سردیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں یورپی اقوام کے لیے یہ وقت ہرگز مناسب نہیں ہے کہ وہ نرمی برتیں یا دباؤ کم کریں۔
برطانوی وزیرِ اعظم کے سکیورٹی مشیر جوناتھن پاول نے اپنے ایک نادر عوامی بیان میں خبردار کیا ہے کہ یورپی ممالک کو روسی صدر ولادیمیر پوتین کے خلاف اپنا سیاسی اور معاشی دباؤ برقرار رکھنے کے لیے آنے والے سردیوں کے موسم میں سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر سخت زور دیا کہ موجودہ نازک عالمی صورتحال میں یورپ کے لیے یہ بالکل بھی مناسب وقت نہیں ہے کہ وہ اپنی کوششوں میں کسی قسم کی کمی لائے یا دباؤ کو ہلکاڑے۔
جوناتھن پاول نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ روس کے خلاف متحد حکمتِ عملی اور مسلسل دباؤ ہی خطے میں طویل المدتی استحکام اور سلامتی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یورپی ممالک نے سردیوں کے دوران توانائی یا دیگر امور میں عارضی مشکلات کی وجہ سے اپنے قدم پیچھے ہٹائے، تو اس سے روسی قیادت کو غلط پیغام جائے گا اور خطے کے سکیورٹی خدمزات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق، پاول کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یورپ کو پہلے ہی مہنگائی، توانائی کے بحران اور یوکرین جنگ کے اثرات کی وجہ سے شدید معاشی اور سماجی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود برطانوی عہدیدار کا موقف ہے کہ اجتماعی سلامتی اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کے لیے اتحادی ممالک کو طویل مدتی قربانیاں دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
یورپی دارالحکومتوں میں اس بیان کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ آنے والے مہینوں میں موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ ہی گیس اور توانائی کی فراہمی کے مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ مشیرِ سکیورٹی کا یہ پیغام تمام یورپی ممالک کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ روس کے خلاف پالیسیوں میں یکجہتی برقرار رکھنا اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، خواہ اس کی قیمت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔