Entertainment
سيلين ديون کی پیرس میں شاندار واپسی اور کنسرٹ
مشہور گلوکارہ سيلين ديون نے طویل بیماری کی وجہ سے چھ سال کے وقفے کے بعد پیرس میں اپنے پہلے کنسرٹ سے اسٹیج پر واپسی کی ہے۔ اس موقع پر ہزاروں مداحوں نے شاندار استقبال کیا اور جذبات سے مغلوب ہو کر خوشی کے آنسو بہائے۔
عالمی شہرت یافتہ کینیڈین گلوکارہ سيلين ديون نے چھ سال کے طویل وقفے کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اپنے پہلے لائیو کنسرٹ کے ذریعے موسیقی کی دنیا میں شاندار واپسی کی ہے۔ اس طویل عرصے میں وہ سنگین طبی مسائل کی وجہ سے پرفارم کرنے سے قاصر تھیں، جس کی وجہ سے ان کے مداحوں میں شدید بے چینی پائی جاتی تھی۔ پیرس میں ہونے والے اس تاریخی کنسرٹ میں ہزاروں کی تعداد میں مداح موجود تھے جو اپنی پسندیدہ آرٹسٹ کو دوبارہ اسٹیج پر دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔
جیسے ہی سيلين ديون نے اسٹیج پر قدم رکھا، ہال تالیوں اور نعروں سے گونج اٹھا۔ بہت سے مداح خوشی سے ناچتے اور گاتے ہوئے دکھائی دیے جبکہ کئی افراد اس جذباتی لمحے میں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ یہ کنسرٹ نہ صرف سيلين ديون کے لیے بلکہ ان کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کروڑوں مداحوں کے لیے بھی ایک انتہائی جذباتی اور یادگار لمحہ تھا، جنھوں نے طویل انتظار کے بعد اپنی آواز کی ملکہ کو دوبارہ پرفارم کرتے دیکھا۔
واضح رہے کہ سيلين ديون کو پٹھوں کے ایک نادر عارضے (Stiff-Person Syndrome) کی تشخیص ہوئی تھی جس کی وجہ سے انھیں 2018 کے بعد سے اپنے تمام طے شدہ شوز منسوخ کرنا پڑے تھے اور وہ منظرِ عام سے ہٹ گئی تھیں۔ اس بیماری نے ان کی گلوکاری اور عام زندگی کو شدید متاثر کیا تھا۔ تاہم، مسلسل علاج، حوصلے اور عزم کے بعد انھوں نے ایک بار پھر موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ ان کی آواز کا جادو آج بھی مداحوں کے دلوں پر راج کرتا ہے۔
اس کامیاب واپسی کے بعد موسیقی کے حلقوں میں یہ امید کی جا رہی ہے کہ سيلين ديون مستقبل میں مزید کنسرٹس اور نئے پراجیکٹس کے ساتھ اپنے مداحوں کو محظوظ کرتی رہیں گی۔ پیرس کا یہ کنسرٹ ان کی موسیقی کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوا ہے، جہاں مداحوں نے 'شی از بیک' (وہ واپس آ گئی ہے) کے نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا اور ان کی صحت یابی پر خوشی کا اظہار کیا۔