World
چوبیس گھنٹوں میں 1400 یمنی باشندے جبوتی پہنچ گئے
یمن میں حوثی باغیوں کی کارروائیوں اور باب المندب آبنائے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد چوبیس گھنٹوں میں 1400 یمنی جبوتی پہنچ گئے۔ پناہ گزینوں کی اس اچانک آمد نے علاقے میں انسانی بحران کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یمن میں جاری سنگین سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دوران پناہ گزینوں کی نقل مکانی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق محض چوبیس گھنٹوں کے مختصر ترین وقت کے اندر چودہ سو کے قریب یمنی باشندے اپنی جانیں بچا کر بحرِ احمر عبور کرنے کے بعد جبوتی کے ساحلی علاقے اوبوک پہنچ چکے ہیں۔ اس اچانک اور بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی کی بنیادی وجہ حوثی باغیوں کی جانب سے اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب کے اردگرد اپنی گرفت کو مزید مضبوط بنانا اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہے۔ جبوتی پہنچنے والے ان پناہ گزینوں میں خواتین، بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں جو انتہائی کسمپرسِی کی حالت میں طویل اور خطرناک سمندری سفر طے کر کے یہاں پہنچے ہیں۔ مقامی حکام اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر ہنگامی امداد کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ پناہ گزینوں کے لیے قائم کیے جانے والے عارضی کیمپوں میں جگہ کی کمی اور طبی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس سے ایک بڑے انسانی بحران کے جنم لینے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آبنائے باب المندب جو کہ عالمی تجارت اور بحری نقل و حرکت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، وہاں حوثی باغیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے نہ صرف تجارتی بحری جہازوں کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی اجیرن بنا ڈالا ہے۔ یمن کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے یہ افراد روزگار کے فقدان، خوراک کی شدید قلت اور سیکیورٹی کے نامساعد حالات سے تنگ آ کر اپنا آبائی وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اگر صورتحال یہی رہی تو آنے والے دنوں میں جبوتی اور دیگر پڑوسی ممالک کا رخ کرنے والے یمنی پناہ گزینوں کی تعداد میں مزید نمایاں اضافے کا خدشہ ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس انسانی المیے کا فوری نوٹس لیں اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ خطے میں مزید انسانی مصائب کو روکا جا سکے۔