LIVE
Loading Breaking News...

یمن کے حوثیوں کا بحیرہ احمر کے میون جزیرے پر قبضہ

News Image
یمنی حوثی تحریک نے باب المندب آبنائے پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے اہم ترین میون جزیرے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اس قبضے کو خطے میں بحری تجارت اور عسکری نوعیت کے اعتبار سے ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
یمن کی حوثی تحریک نے بحیرہ احمر میں واقع ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک جزیرے میون پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ دفاعی اور جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل اس جزیرے کے قبضے سے حوثی جنگجوؤں کی باب المندب آبنائے پر پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی ہے۔ یمن کے اس بحری علاقے میں عالمی تجارت بالخصوص تیل کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستے گزرتے ہیں، جس کی وجہ سے اس پیشرفت کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، میون جزیرہ جو کہ پیرم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع ہے اور یہ خلیج عدن کو بحیرہ احمر سے ملانے والی اسٹریٹجک آبنائے باب المندب کے بالکل قریب ہے۔ اس جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد حوثی فورسز کو اس سمندری گزرگاہ پر نقل و حرکت کی نگرانی اور دفاعی امور میں ایک طبعی برتری حاصل ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم یمن کے طویل تنازعے میں عسکری توازن کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، اس واقعے کے بعد علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ دنیا کا ایک بڑا حصہ تجارتی بحری جہاز اسی راستے سے ہو کر گزرتا ہے۔ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اس مقام پر حوثیوں کے قبضے سے بحیرہ احمر کی سیکیورٹی کی صورتحال بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خطے میں امن و امان کی بحالی اور تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔