LIVE
Loading Breaking News...

نائن الیون کے اثرات: عالمی سیاست میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیاں

News Image
گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات نے دنیا بھر کی جغرافیائی سیاست اور سلامتی کے تصورات کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ اس دن کے بعد شروع ہونے والی جنگوں اور پالیسیوں نے عالمی امن کو ایک طویل مدتی بحران میں دھکیل دیا ہے۔
گیارہ ستمبر 2001 کا دن نیویارک شہر میں ایک عام روزمرہ کی صبح کی طرح شروع ہوا تھا، لیکن چند گھنٹوں کے اندر پیش آنے والے واقعات نے عالمی جغرافیائی سیاست کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ جب دہشت گردوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاورز اور پینٹاگون کو نشانہ بنایا تو ایک سپر پاور کے خلاف ہونے والے ان حملوں نے دنیا کو ایک نئے اور خطرناک دور میں داخل کر دیا۔ اس المناک دن کے فوراً بعد بین الاقوامی سلامتی کی ترجیحات میں بنیادی تبدیلیاں آئیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے اور اس کے سدباب کے لیے فوری طور پر قراردادیں منظور کیں، جس سے ایک نیا عالمی نظام تشکیل پایا جو غیر ریاستی عناصر کے خلاف صف آرا ہو گیا۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے القاعدہ کے خلاف افغانستان کا رخ کیا، جس نے امریکہ کو تاریخ کی طویل ترین جنگ میں الجھا دیا۔ پاکستان نے اس جنگ میں اہم کردار ادا کیا اور القاعدہ کی قیادت کو ختم کرنے میں مدد دی، تاہم اس کے بعد پیدا ہونے والے عدم استحکام اور امریکی انخلا کے اثرات آج بھی خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ افغانستان میں امریکی پسپائی اور چھوڑے گئے جدید ہتھیاروں نے تحریک طالبان پاکستان اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کو تقویت دی، جس سے خطے کا امن دوبارہ داؤ پر لگ گیا۔ نائن الیون کے اثرات صرف افغانستان تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے عراق پر حملہ بھی کیا گیا، جس نے طاقت کے بے دریغ استعمال اور پیشگی حملوں کا ایک خطرناک عالمی تسلسل شروع کیا۔ اس سوچ کا اثر دنیا کے دیگر حصوں پر بھی پڑا اور آج دنیا بھر میں متعدد مسلح تنازعات جاری ہیں۔ دوسری طرف، پاکستان اس جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ بننے کی وجہ سے شدید جانی اور مالی نقصانات سے دوچار ہوا، اور ملک کو اندرونی طور پر دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑنا پڑی۔ اس تمام صورتحال نے بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا، اور آج دنیا میں جو بدامنی اور انتشار نظر آتا ہے، اس کی جڑیں اسی پُرآشوب دن میں پیوست ہیں۔