LIVE
Loading Breaking News...

بلوچستان کوئلہ کان حادثہ: زہریلی گیس کے اخراج سے آٹھ کان کن محصور

News Image
بلوچستان میں کوئلہ کی ایک کان کے اندر زہریلی گیس لیک ہونے کے باعث آٹھ مزدور اندر پھنس گئے۔ واقعے کے بعد لواحقین اور مقامی افراد کی جانب سے امدادی سرگرمیوں اور حفاظتی انتظامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں کان کنی کے شعبے میں ایک بار پھر بڑا حادثہ پیش آیا ہے جہاں کوئلہ کی ایک گہری کان میں زہریلی گیس کے خطرناک اخراج کے باعث آٹھ کان کن اندر پھنس گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ صوبے کے اس علاقے میں پیش آیا جہاں کان کن انتہائی کٹھور حالات میں روزگار کی تلاش کے لیے زمین کے اندر اترتے ہیں۔ زہریلی گیس پھیلنے کی وجہ سے وہاں موجود مزدوروں کے لیے سانس لینا محال ہو گیا اور وہ اندر ہی محصور ہو کر رہ گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہوئیں تاکہ محصور افراد کو بحفاظت باہر نکالا جا سکے۔ دوسری جانب اس اندوہناک واقعے پر کان کنوں کے لواحقین اور مزدور یونینز کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ورثا کا کہنا ہے کہ کانوں میں حفاظتی انتظامات انتہائی ناقص ہیں اور مزدوروں کی زندگیوں سے مسلسل کھیلا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی صوبے کے مختلف اضلاع جیسے کہ ہرنائی اور دیگر علاقوں میں اس طرح کے المناک حادثات رونما ہو چکے ہیں جن میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں یا مزدور شدید زخمی ہوئے۔ ماضی میں بھی ایسے حادثات کے بعد لواحقین کی جانب سے حکومتی اعلانات اور مالی معاوضوں کو مسترد کرنے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس تازہ ترین واقعے کے بعد بھی مزدور رہنماؤں نے حکومت اور مائننگ کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کان کنوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر بین الاقوامی معیار کے حفاظتی اقدامات نافذ کریں تاکہ غریب مزدوروں کو اس طرح کے جان لیوا حادثات سے بچایا جا سکے اور انہیں زندگی کی بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔