Pakistan
سندھ بلدیاتی قانون میں ترامیم پر اپوزیشن کا اعتراض اور نئی کمیٹی
سندھ اسمبلی نے مقامی حکومتوں کے ترمیمی قانون کا جائزہ لینے کے لیے گیارہ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اپوزیشن نے اس مسودے کو مسترد کرتے ہوئے اسے میئر کا دورانیہ بڑھانے کی سازش قرار دیا ہے۔
کراچی: صوبہ سندھ میں مقامی حکومتوں کے نئے قانون کا معاملہ ایک بار پھر شدید سیاسی تنازع کی زد میں آ گیا ہے جہاں صوبائی اسمبلی کی جانب سے قانون میں ترامیم کے جائزے کے لیے تشکیل دی جانے والی گیارہ رکنی خصوصی کمیٹی کے قیام کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی حلقوں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس پیش رفت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور حکمران جماعت پر من مانے فیصلے مسلط کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق سندھ اسمبلی میں پیش کیے جانے والے اس ڈرافٹ بل میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے کئی اہم تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ مجوزہ ترامیم کے تحت مقامی حکومتوں کے ڈھانچے اور اختیارات میں تبدیلی پر غور کیا جا رہا ہے، جس پر اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ یہ ترامیم کسی عوامی فلاح کے بجائے مخصوص سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے لائی جا رہی ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے انتظامی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب جماعت اسلامی نے سندھ کے اس نئے بلدیاتی بل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ تمام مشق اصل میں میئر کی مدت ملازمت اور اختیارات میں توسیع کے لیے کی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے اختیارات کو اپنے پاس محدود رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے، جسے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور اس کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔
حکومتی ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ قائم کردہ گیارہ رکنی کمیٹی تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم، بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ آنے والے دنوں میں سندھ اسمبلی کے اندر اور باہر اس قانون پر محاذ آرائی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس سے صوبے کا سیاسی ماحول گرم رہنے کا امکان ہے۔