Pakistan
پاکستان میں پٹرولیم قیمتیں بڑھنے پر چکوال کے وکلا کا عدالتی بائیکاٹ
حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ چکوال کے وکلا نے مہنگائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر ہوشربا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ملک کے مختلف طبقات میں شدید تشویش اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر چکوال میں قانونی برادری نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کیے جانے والے اضافے کے خلاف بھرپور احتجاج کرتے ہوئے عدالتوں کی کارروائی کا مکمل بائیکاٹ کر دیا ہے۔ وکلا تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس ظالمانہ اضافے سے عام آدمی کی زندگی پہلے ہی انتہائی اجیرن ہو چکی ہے اور اب عدلیہ میں پیش ہونے والے وکلا اور سائلین کے لیے بھی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں پانچ روپے سے زائد کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی اسی نسبت سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت نے ان قیمتوں میں ردوبدل کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ تاہم اس فیصلے کے فوری بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس سے مہنگائی کا نیا طوفان امڈ آیا ہے۔
چکوال بار ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ وکلا کا مؤقف ہے کہ حکومت کو عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹیکسوں میں کمی کرنی چاہیے نہ کہ روزمرہ استعمال کی بنیادی چیزیں مہنگی کی جائیں۔ بائیکاٹ کے باعث آج چکوال کی عدالتوں میں پیش ہونے والے سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بیشتر مقدمات کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کر دی گئی۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے گڈز ٹرانسپورٹرز نے بھی کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کے اثرات براہ راست سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں۔ وکلا برادری نے تنبیہ کی ہے کہ اگر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیا جانے والا یہ اضافہ واپس نہ لیا تو احتجاج کا دائرہ کار ملک کے دوسرے شہروں تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ عوامی حلقوں نے بھی وکلا کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔