World
يمن جنگ اور حوثی پیش قدمی: تازہ ترین صورتحال اور عالمی ردعمل
يمن ميں حکومتی فورسز اور حوثیوں کے مابين مسلح جھڑپوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جس سے خطے ميں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔ اس نئی کشیدگی نے بین الاقوامی برادری بالخصوص امریکا اور اتحادی ممالک کو ایک بار پھر پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
يمن ميں حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے مابین مسلح تصادم اور جھڑپوں کا سلسلہ ایک بار پھر تیز ہو گیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، حوثیوں کی حالیہ تیز رفتار پیش قدمی نے نہ صرف یمنی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں بلکہ اس نے خطے کے جیو پولیٹیکل منظر نامے کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس تازہ ترین کشیدگی نے امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کو ایک نئے اور پیچیدہ تزویراتی مخمصے میں ڈال دیا ہے، کیونکہ اس سے پہلے سے سلگتی ہوئی خطے کی صورتحال مزید بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس تنازع کے دوران تاریخی اور تجارتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل بندرگاہ مخا بھی فریقین کے لیے ایک بڑا انعام بن چکی ہے۔ مخا وہ تاریخی بندرگاہ ہے جس نے ماضی میں کافی کی تجارت کو تشکیل دینے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا، اور اب جنگ کے اسماتین موڑ پر اس کی عسکری اہمیت دوچند ہو چکی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک مقامات پر کنٹرول کے لیے ہونے والی یہ لڑائی یمن کے طویل المدتی بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، کیونکہ جنگ کے اس نئے مرحلے سے عام شہریوں کی زندگیاں براہ راست خطرے میں پڑ گئی ہیں اور پہلے سے ہی بحران کا شکار ملک میں انسانی امداد کی فراہمی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔