LIVE
Loading Breaking News...

ساؤدی عرب میں ڈرون حملہ: اہم تیل کی پائپ لائن بند

News Image
ساؤدی عرب نے عراق کی جانب سے ہونے والے ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک اہم تیل کی پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ساؤدی عرب نے حالیہ ڈرون حملے کے بعد اپنی ایک انتہائی اہم تیل کی پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملہ مبینہ طور پر عراق کی سمت سے کیا گیا تھا، جس کے بعد حکام نے سکیورٹی خدشات اور تنصیبات کے تحفظ کے پیش نظر فوری طور پر پائپ لائن کی ترسیل معطل کر دی۔ اس اقدام سے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں اور بین الاقوامی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ واقعے کے بعد خطے میں سیاسی اور عسکری تناؤ میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس حملے کے پیچھے ممکنہ طور پر ایران کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے بھی اس صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کے خلاف وارننگ جاری کی ہے اور اسٹریٹ آف ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ ساؤدی حکام کی جانب سے صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے اور نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے تاکہ جلد از جلد پائپ لائن کی مرمت کر کے تیل کی سپلائی کو بحال کیا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے خلیجی خطے کے امن اور عالمی معیشت کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں، جس سے تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔