LIVE
Loading Breaking News...

ریفارم پارٹی عطیات تنازع، رابرٹ جینرک کا قانونی قرار دینے کا دعویٰ

News Image
برطانوی سیاست میں سیاسی عطیات کے تنازع کے دوران رابرٹ جینرک نے مؤقف اپناਇਆ ہے کہ پارٹی کو ملنے والی بھاری رقوم قانون کے دائرے میں رہ کر حاصل کی گئیں۔ حکومت اس معاملے پر بیرون ملک مقیم برطانوی شہریوں کے عطیات سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی تیاری کر رہی ہے۔
برطانوی سیاست میں سیاسی جماعتوں کے مالی معاملات اور عطیات کا مسئلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس حوالے سے اہم سیاسی شخصیات کے بیانات سامنے آ رہے ہیں جن میں عطیات کی قانونی حیثیت پر بحث کی جا رہی ہے۔ رابرٹ جینرک نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ریفارم پارٹی کو موصول ہونے والے بہتر ملین پاؤنڈز کے عطیات کسی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتے بلکہ یہ مکمل طور پر ملکی قوانین کے مطابق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سیاسی عطیات کے نظام پر اٹھنے والے سوالات کے بعد شفافیت کو یقینی بنانا ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے بھی اس معاملے پر سنجیدہ غور و فکر کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق موجودہ حکومت برطانوی تارکین وطن کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو دیے جانے والے عطیات کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مجوزہ قانون سازی کا مقصد بیرون ملک مقیم برطانوی شہریوں کے عطیات کے حوالے سے ضوابط کو مزید سخت اور واضح بنانا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے مبہم مالی معاملات سے بچا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے فنڈنگ سسٹمز میں اصلاحات کی ضرورت ایک طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی اور تازہ ترین پیش رفت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ بحث آنے والے دنوں میں برطانوی پارلیمنٹ میں بھی زور پکڑ سکتی ہے جہاں تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مالیاتی ذرائع کا دفاع کرتی دکھائی دیں گی۔ سیاسی حلقوں میں اس موضوع پر گرما گرم بحث جاری ہے اور عوام کی جانب سے بھی شفافیت کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔