Politics
اینجیلا ریننر: ڈیڑھ ملین نئے گھروں کا ہدف حاصل کرنا مشکل
برطانوی وزیرِ ہاؤسنگ اینجیلا ریننر نے خبردار کیا ہے کہ تعمیراتی لاگت میں اضافے اور عالمی بحران کے باعث نئے گھروں کی تعمیر کا انتخابی ہدف پورا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حکومت اس کٹھن چیلنج سے نمٹنے کے لیے تمام ممکنہ متبادل ذرائع اور حکمت عملیوں پر غور کر رہی ہے۔
برطانوی ہاؤسنگ سیکرٹری اینجیلا ریننر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ ملکی اور بین الاقوامی حالات کی روشنی میں ڈیڑھ ملین نئے گھروں کی تعمیر کا انتخابی ہدف حاصل کرنے کا امکان بہت کم رہ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے اس اہم ترین منشور پر عملدرآمد کے راستے میں کئی سنگین مالی اور انتظامی رکاوٹیں حائل ہو چکی ہیں، جن سے نمٹنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
اینجیلا ریننر نے انکشاف کیا کہ ملک بھر میں تعمیراتی لاگت میں ہونے والا ہوشربا اضافہ اور مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران کی صورتحال کے باعث معیشت پر پڑنے والے اثرات اس ہدف کی راہ میں سب سے بڑی دیوار بن گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر سپلائی چین کے متاثر ہونے اور ایندھن و مواد کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے تعمیراتی پراجیکٹس کی لاگت تخمینے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، جس سے سرکاری فنڈز پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اس کے باوجود، وزیرِ ہاؤسنگ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ حکومت اپنے وعدوں سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور کم آمدنی والے خاندانوں کو چھت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کی ٹیم متبادل حکمت عملیوں پر کام کر رہی ہے تاکہ نجی شعبے کے تعاون سے کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ رہائشی منصوبے شروع کیے جا سکیں اور بحران کے باوجود اہداف کے قریب پہنچا جا سکے۔
سیاسی حلقوں میں ریننر کے اس اعتراف کو ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ لیبر پارٹی نے انتخابات سے قبل ہاؤسنگ کے شعبے میں انقلابی تبدیلیوں کا وعدہ کیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس صورتحال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں کو غیر واقعاتی قرار دیا ہے، جبکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر کوئی ہنگامی مالیاتی پیکج نہ لایا گیا تو یہ ہدف مزید پیچھے چلا جائے گا۔