World
نائجر میں فوجی کمان میں ردوبدل، نئے چیف آف اسٹاف کی تقرری
نائجر کی فوجی حکومت نے اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے فوج کی کمان میں بڑا ردوبدل کیا ہے۔ یہ اقدام ایک ناکام فوجی بغاوت کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا ہے جس نے حکمرانوں کو چیلنج کیا تھا۔
نائجر کی فوجی حکومت نے ملک کے اندرونی حالات کو کنٹرول کرنے اور اپنی طاقت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے فوج کی اعلیٰ کمان میں ایک اہم اور بڑا ردوبدل کیا ہے۔ یہ تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب کچھ عرصہ قبل ملک میں ایک ہلاکت خیز بغاوت اور بغاوت کی ناکام کوشش سامنے آئی تھی جس نے موجودہ فوجی حکمرانوں کی اقتدار پر گرفت کو سنجیدہ چیلنج سے دوچار کیا تھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس نئی تبدیلی کے تحت فوج کے نئے چیف آف اسٹاف کا تقرر بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ فوجی قیادت اندرونی سیکیورٹی کے معاملات کو نہایت سنجیدگی سے لے رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں ملک کے سیاسی اور عسکری منظرنامے میں کئی اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جن کا مقصد حکومت کے اندر اتحاد کو برقرار رکھنا اور کسی بھی قسم کی داخلی چپقلش کا سدباب کرنا ہے۔ نائجر کے دارالحکومت میں اس نئی تقرری کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ملک کو اس وقت متعدد اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مبصرین کے مطابق، فوجی حکومت کی جانب سے کی جانے والی یہ تبدیلیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ حکمران کسی بھی اندرونی بغاوت یا عدم استحکام کو برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں اور وہ ملک کے دفاعی ڈھانچے کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں۔ نئے چیف آف اسٹاف کی تقرری سے فوج کے اندر نظم و ضبط کو بہتر بنانے اور دفاعی حکمت عملی کو از سر نو ترتیب دینے میں مدد ملے گی، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ اقدامات ملک میں طویل مدتی استحکام لانے میں کتنے مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔