World
سویڈن الیکشن: انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے اقتدار میں آنے کا امکان
سویڈن میں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل تیزی سے جاری ہے جہاں دائیں بازو کے اتحاد کی فتح کی صورت میں انتہائی دائیں بازو کی سویڈن ڈیموکریٹس پارٹی پہلی بار حکومت میں شامل ہو سکتی ہے۔ اسانتخابات کے نتائج ملک کی آئندہ سیاسی اور سماجی سمت کا تعین کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے۔
سویڈن میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے، جس میں ملک بھر سے ووٹرز بڑی تعداد میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان انتخابات کو سویڈن کی تاریخ کے انتہائی اہم اور فیصلہ کن انتخابات میں شمار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس بار سیاسی منظر نامے میں دائیں بازو کی جماعتوں کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے۔ پولنگ کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور عوام میں اپنے پسندیدہ رہنماؤں کے انتخاب کے لیے زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران امیگریشن، معیشت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی جیسے مسائل سرفہرست رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج سویڈن کی روایتی سیاسی پالیسیوں میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ طویل عرصے سے ملک میں بائیں بازو اور اعتدال پسند جماعتوں کا غلبہ رہا ہے۔ اس الیکشن کا سب سے بڑا مرکزِ نگاہ 'سویڈن ڈیموکریٹس' نامی انتہائی دائیں بازو کی جماعت ہے، جو امیگریشن کے خلاف سخت مؤقف رکھتی ہے۔ اگر دائیں بازو کا بلاک اس الیکشن میں کامیابی حاصل کرتا ہے تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ سویڈن ڈیموکریٹس پارٹی ملک کی مرکزی حکومت میں شامل ہو گی یا حکومت بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ ابتدائی جائزوں کے مطابق دونوں اہم بلاکس کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے، اور حتمی نتائج کا انحصار غیر فیصلہ کن ووٹرز پر ہوگا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں پولنگ اسٹیشنز کا رخ کریں اور اپنے جمہوری حق کا استعمال کریں۔