World
انڈونیشیا میں مسافر بحری جہاز حادثہ، 6 ہلاک اور 130 لاپتہ
انڈونیشیا کے سمندر میں خراب موسم کی وجہ سے ایک مسافر بحری جہاز الٹ گیا جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور ایک سو تیس لاپتہ ہو گئے۔ ریسکیو حکام نے ایک سو تیرہ افراد کو بحفاظت نکال لیا ہے جبکہ تلاش کا آپریشن جاری ہے۔
انڈونیشیا کے حکام نے بتایا ہے کہ اتوار کے روز جاوا سمندر میں ایک مسافر بحری جہاز الٹنے کے بعد ایک سو تیس افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ ایک سو تیرہ افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ اس حادثے میں اب تک چھ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ انڈونیشیائی حکام کے مطابق اس جہاز پر عملے کے تیس ارکان سمیت کل دو سو تینتالیس افراد سوار تھے اور یہ جہاز اتوار کی صبح خراب موسم کے دوران حکام سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد لاپتہ ہو گیا تھا۔
ورگو ٹرانسپورٹ 8 نامی یہ بحری جہاز ہفتے کے روز مشرقی جاوا کے شہر سورابایا سے جنوبی کالیمنتان کے شہر بانجارماسین کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اتوار کے روز بعد میں ریسکیو ایجنسی نے تصدیق کی کہ چھ لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں جبکہ ایک سو سات افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے اور ایک سو تیس افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ انڈونیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ دودی پورواگاندھی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ہیلی کاپٹر کے عملے کی مشاہداتی رپورٹ کے مطابق جہاز ڈوبا نہیں بلکہ الٹ گیا ہے جبکہ اس حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
بانجارماسین میں ریسکیو ایجنسی کے دفتر کے سربراہ آئی پوتو سودایانا نے ایک ویڈیو بیان میں بتایا کہ محفوظ نکالے گئے مسافروں کو مختلف جہازوں کے ذریعے منتقل کیا گیا ہے اور ان میں سے کچھ کو مشرقی جاوا کی بندرگاہ لایا جائے گا۔ ریسکیو اداروں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مسافر بحری جہاز کی آخری معلوم پوزیشن کی طرف اپنی ٹیمیں، بحری جہاز اور ایک ہیلی کاپٹر روانہ کر دیا تھا تاکہ لاپتہ افراد کی تلاش کو یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ انڈونیشیا سترہ ہزار جزائر پر مشتمل ایک ایسا ملک ہے جہاں سمندری راستے فضائی سفر کے مقابلے میں سستے اور عام ہونے کی وجہ سے نقل و حمل کے لیے مسافر بڑی حد تک فیریز اور بحری جہازوں پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم، ملک میں حفاظتی معیارات پر سختی سے عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے سمندری حادثات کی شرح نسبتاً زیادہ رہی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی انڈونیشیا میں ایک فیری میں سمندر میں آگ لگ گئی تھی جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور اکتالیس لاپتہ ہو گئے تھے۔