Pakistan
جھنگ مدرسہ زیادتی کیس: پولیس نے استاد کو گرفتار کر لیا
جھنگ کے علاقے اٹھارہ ہزاری میں پولیس نے مدرسے کے ایک طالبعلم سے زیادتی کے الزام میں قاری کو گرفتار کر لیا ہے۔ میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہونے کے بعد ملزم کو سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا ہے۔
جھنگ کے علاقے اٹھارہ ہزاری کے کوٹ شاکر پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع ایک مدرسے میں پیش آنے والے دلخراش واقعے میں پولیس نے کم عمر طالبعلم سے زیادتی کے الزام میں مدرسے کے ایک استاد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کوٹ لنگر کے رہائشی نے ایف آئی آر درج کروائی تھی کہ اس کا 12 سالہ بیٹا گاؤں چندہ کے مدرسہ حمید الاسلام میں مقیم طالبعلم ہے اور وہاں ناظرہ قرآن کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ جمعہ کی رات ملزم نے مبینہ طور پر طالبعلم کو مدرسے کی بالائی منزل کے کمرے میں قابو کر کے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے فوراً بعد متاثرہ بچے کے اہل خانہ کی مدد سے پولیس نے فوری کارروائی کا آغاز کیا اور طالبعلم کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹھارہ ہزاری منتقل کیا۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں کی جانب سے جاری کردہ میڈیکل معائنے کی رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق کر دی گئی ہے، جس پر پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ملزم استاد کو حراست میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کر رشتے داروں اور علاقہ مکینوں میں اس واقعے پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) جھنگ اور فیصل آباد کے مختلف کارروائیوں میں رشوت ستانی کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اے سی ای ٹیم نے زمین کی منتقلی کے معاملے پر مبینہ طور پر لاکھوں روپے رشوت لینے والے ایک پٹواری کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔ اس کے علاوہ فیصل آباد میں واسا کے ایک انسپکٹر کو بھی سوجی بل کم کرنے کے عوض رشوت وصول کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور فیصل آباد کے علاقوں میں ٹریفک حادثات اور ڈوبنے کے دیگر الگ الگ واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔