World
ڈونلڈ ٹرمپ کی آئرلینڈ کی وحدت کی حمایت پر عالمی ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورہ آئرلینڈ کے دوران کہا ہے کہ وہ جمہوریہ آئرلینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے اتحاد کو دیکھنا پسند کریں گے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اس معاملے پر برطانیہ کا موقف بھی اہم ہوگا، جو کہ ایک صدی سے منقسم چلے آ رہے ہیں۔
ڈوبلن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دو روزہ دورہ آئرلینڈ کے دوران ایک انتہائی حساس سیاسی موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جمہوریہ آئرلینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے اتحاد کو 'شاندار چیز' سمجھتے ہیں۔ آئرش وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ تقسیم شدہ خطہ بالآخر ایک ہونا ہی ہے، اس لیے بہتر ہے کہ یہ اب ہی ہو جائے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اس معاملے پر برطانیہ کا بھی ایک موثر کردار اور موقف ہوگا۔ یاد رہے کہ جزیرہ آئرلینڈ ایک صدی سے زائد عرصے سے یعنی 1921 سے جنوبی جمہوریہ آئرلینڈ اور برطانوی زیر انتظام شمالی آئرلینڈ کے درمیان منقسم چلا آ رہا ہے۔
1998 کے گڈ فرائیڈے معاہدے کے تحت، جس نے شمالی آئرلینڈ کی تین دہائیوں پر محیط فرقہ وارانہ کشیدگی کو ختم کیا تھا، کسی بھی ریفرنڈم کے انعقاد کا انحصار اس بات پر ہے کہ برطانوی حکومت یہ طے کرے کہ وہاں کی اکثریت جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ انضمام کے حق میں ہے۔ اس انضمام کے لیے جمہوریہ آئرلینڈ کے عوام کو بھی ووٹ دینا ہوگا۔ ماضی میں امریکہ روایتی طور پر اس معاملے پر غیر جانبدارانہ موقف اپناتا رہا ہے، لیکن ٹرمپ کے اس تازہ بیان نے اس حساس سیاسی بحث کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے جبکہ برطانوی اور یونینسٹ رہنماؤں کی جانب سے اس پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اپنے دورے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سخت سیکیورٹی حصار میں ڈوبلن پہنچے جہاں چار ہزار سے زائد پولیس اہلکار اور سیکیورٹی عملہ تعینات کیا گیا تھا۔ ڈوبلن ایئرپورٹ اور حکارتی ملاقاتوں کے بعد ان کا پروگرام مغربی آئرلینڈ میں اپنے پرتعیش ریسورٹ جانے اور گولف ٹورنامنٹ میں شرکت کا ہے۔ آئرش صدر کی جانب سے ملاقات کے دوران کچھ عالمی امور پر سخت مؤقف بھی اپنایا گیا، جبکہ امریکی صدر اور آئرش قیادت کے درمیان دو طرفہ تعلقات، تجارت اور دیگر بین الاقوامی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔