Pakistan
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں اضافہ، چار افراد لاپتہ
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جبری گمشدگیوں کے واقعات میں ایک بار پھر تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں حالیہ دنوں میں چار مزید مقامی افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی ماہرین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات میں ایک بار پھر تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کی تازہ ترین مثال چار مزید مقامی شہریوں کا لاپتہ ہونا ہے۔ خضدار اور اس کے گردونواح میں پیش آنے والے حالیہ پُرتشدد واقعات اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد سکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔ مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، صوبے کے مختلف حصوں میں شہریوں کی غیر قانونی گرفتاریوں اور گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جس سے عام لوگوں میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی ہے۔
دوسری جانب، پاکستان میں انسانی حقوق کے سرکردہ اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست کی جانب سے صوبے میں مبینہ طور پر جبر اور عسکریت پسندی کی پالیسیوں کو تقویت دی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے فائرنگ کے ایک واقعے میں مبینہ طور پر ایک بچے سمیت پانچ شہریوں کی ہلاکت کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حکام اس واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم سرکاری مؤقف اور مقامی لوگوں کے بیانات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی بلوچستان کے حالات کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی انسانی حقوق کے اداروں کے ماہرین نے اس خطے میں جبری گمشدگیوں، تشدد اور ماڈل کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے فوری اور شفاف اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ صوبے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔