Pakistan
نئے صوبوں کے لیے ریفرنڈم اور پارلیمنٹ کا کردار
ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ اب پارلیمنٹ کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس معاملے پر سیاسی جماعتوں کے درمیان بحث اور موقف میں شدت آ گئی ہے۔
ملک بھر میں انتظامی امور کی بہتری اور نئے صوبوں کے قیام کا دیرینہ مطالبہ ایک بار پھر ملکی سیاست کے مرکز میں آ گیا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق نئے صوبوں کے لیے ریفرنڈم کرانے یا نہ کرانے کا حتمی فیصلہ اب پارلیمنٹ کے فورم پر کیا جائے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ صوبائی ڈھانچہ عوام کو موثر طرزِ حکمرانی اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں بڑی حد تک ناکام ثابت ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے انتظامی اکائیوں کی تقسیم کی آوازیں مزید بلند ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب سیاسی حلقوں میں اس موضوع پر شدید گرما گرمی دیکھی جا رہی ہے اور مختلف جماعتیں اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ میدان میں اتری ہوئی ہیں۔ایم کیو ایم پاکستان نے نئے صوبوں کے قیام کے لیے دباؤ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ شہری سندھ کا مقدمہ اس وقت سب سے زیادہ مضبوط ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آبادی کے تناسب اور انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے کی تقسیم ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ پسماندہ علاقوں اور شہری مراکز کو ان کا جائز حق مل سکے۔ اس کے برعکس، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیٹر رضا ربانی نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کا اصل حل صوبوں کی تقسیم میں نہیں بلکہ بااختیار مقامی حکومتوں (لوکل گورنمنٹس) کے نظام میں پوشیدہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے بغیر کوئی بھی انتظامی تبدیلی خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکتی۔پارلیمنٹ میں اس اہم نوعیت کے آئینی اور انتظامی معاملے پر بحث متوقع ہے جہاں تمام پارلیمانی جماعتیں اپنی تجاویز پیش کریں گی۔ کیا ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے ریفرنڈم کا راستہ اپنایا جائے گا یا پھر موجودہ صوبوں کے اندر ہی اختیارات کی منتقلی پر اتفاق کیا جائے گا، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں پارلیمانی کمیٹیوں اور قانون سازوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ عوام اور سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو انتہائی گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس فیصلے کے اثرات ملک کے مستقبل کے سیاسی اور انتظامی نقشے پر گہرے نقوش چھوڑیں گے