LIVE
Loading Breaking News...

سعودی تیل پائپ لائن پر حملہ: شیئر مارکیٹ میں گراوٹ اور عالمی خدشات

News Image
سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی سپلايٴی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کشیدگی کے بعد سعودی حصص بازار میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
سعودی عرب میں ایک اہم تیل پائپ لائن کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے بعد ملک کی شیئر مارکیٹ میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملے ایک اہم تنصیب پر کیے گئے جس کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔ اس واقعے نے مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے اور عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات جنم لے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کی وجہ سے عالمی تیل کی پیداوار اور سپلائی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ ڈرون حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب خطے میں پہلے ہی سے کشیدگی عروج پر ہے۔ صورتحال کے پیش نظر سعودی حکام نے اہم تنصیبات کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ دوسری جانب، عالمی منڈی میں اس خبر کے آتے ہی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ شروع ہو گیا ہے اور سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں جاری کشیدگی میں کمی نہ آئی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو کہ دنیا بھر کے ممالک کے لیے مہنگائی کا ایک نیا طوفان لے کر آ سکتا ہے۔ سعودی عرب کو اس وقت خطے میں متعدد سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس نوعیت کے حملے عالمی توانائی کی منڈی کے استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ حکومت اور متعلقہ ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور تیل کی سپلائی کو بحال رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ تا حال کسی جانی نقصان کی بڑی اطلاع سامنے نہیں آئی لیکن اقتصادی نقصان اور سپلائی چین میں تعطل کے خطرات بدستور برقرار ہیں۔