LIVE
Loading Breaking News...

شی جن پنگ کا برکس اجلاس میں مشرق وسطیٰ کے امن اور عالمی جنوب کی ترقی پر زور

News Image
چینی صدر شی جن پنگ نے برکس سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششوں کے تحت ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کو بھی خوش آمدید کہا۔
برکس سربراہی اجلاس کے دوران چین کے صدر شی جن پنگ نے عالمی امور میں بلاک کے بڑھتے ہوئے کردار اور مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کی شدید ضرورت پر زور دیا ہے۔ چینی صدر نے زور دیا کہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو بین الاقوامی قوانین کے دفاع کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ طاقت کی بنیاد پر فیصلے کرنے کا پرانا فلسفہ اب دنیا میں مزید نہیں چل سکتا۔ اس اہم سفارتی موقع پر چینی صدر شی جن پنگ نے ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ بھی دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے مثبت گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔ مبصرین کے مطابق حالیہ عرصے میں چین اور بھارت کے تعلقات میں برف پگھلنے کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، جس کی جھلک برکس اجلاس کے دوران بھی دکھائی دی۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو علاقائی استحکام اور اقتصادی تعاون کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ چین نے 'گریٹر برکس' کے تحت اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور عالمی سطح پر اس بلاک کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے مغرب کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی نظام کو انصاف پسندی اور کثیرالجہتی اصولوں پر استوار ہونا چاہیے تاکہ ترقی پذیر ممالک کے حقوق کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے اور دنیا بھر میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ برکس پلیٹ فارم پر اس نوعیت کے بیانات اور سفارتی سرگرمیاں عالمی سیاست میں ایک نئے توازن کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے جاری تنازعات اور عالمی معیشت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے چین اور دیگر اہم رکن ممالک کا یہ اتحاد آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سفارت کاری پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔