LIVE
Loading Breaking News...

نیشنل آف شور ایکسپلوریشن اسکیم کی منظوری اور تفصیلات

News Image
حکومت نے مالی سال 2030-31 تک کے لیے 'سمندر منتھن' نامی نیشنل آف شور ایکسپلوریشن اسکیم کی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد سمندری حدود میں تیل اور گیس کے ذخائر کو تلاش کرنا اور توانائی کے شعبے کو خود کفیل بنانا ہے۔
نئی دہلی: وفاقی کابینہ نے جمعہ کے روز وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک اہم تجویز کو باقاعدہ منظوری دے دی ہے، جس کے تحت 'سمندر منتھن' کے نام سے نیشنل آف شور ایکسپلوریشن اسکیم کا آغاز کیا جائے گا۔ اس جدید اور وسیع تر منصوبے کا کل تخمینہ تقریباً 84,084 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، جسے مالی سال 2030-31 تک کے مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے گا۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد ملک کی سمندری حدود میں تیل اور قدرتی گیس کے پوشیدہ ذخائر کا پتہ لگانا اور ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے توانائی کے شعبے میں خود کفیلی حاصل کرنے میں مدد ملے گی اور اندرون ملک پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس جامع منصوبے کے نفاذ سے آف شور علاقوں میں ہائیڈرو کاربن کی تلاش کے کاموں میں تیزی آئے گی۔ اس مقصد کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقوں کا استعمال کیا جائے گا تاکہ سمندر کی تہہ میں موجود وسائل کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ اس اسکیم کے تحت نجی اور سرکاری اداروں کو بھی مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے تیل اور گیس کے نئے ذخائر کو جلد از جلد دریافت کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بھاری سرمائے کی سرمایہ کاری سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور درآمدی توانائی پر انحصار کم ہوگا۔ وزارتِ پیٹرولیم کی اس تجویز کو ملک کی طویل مدتی توانائی کی سلامتی کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس اسکیم کے تحت عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ٹینڈرز جاری کیے جائیں گے۔