World
امریکی سفارت خانے کا ملازم بچوں کی نازیبا تصاویر کے کیس میں فرار
برطانیہ میں امریکی سفارت خانے کا ایک ملازم بچوں کی نازیبا تصاویر کے الزامات کا سامنا کرنے کے بعد پولیس انٹرویو سے پہلے ہی ملک سے واپس چلا گیا۔ ملزم کو سفارتی تحفظ حاصل تھا حالانکہ وہ باضابطہ طور پر کوئی سفارت کار نہیں تھا۔
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں واقع امریکی سفارت خانے کا ایک ملازم بچوں کی نازیبا تصاویر کے سنگین الزامات کی زد میں آنے کے بعد پولیس کے ساتھ طے شدہ انٹرویو سے چند روز قبل ہی ملک سے واپس چلا گیا۔ اس واقعے نے سفارتی استثنا اور قانون کے نفاذ کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق اس شخص پر بچوں کی نازیبا تصاویر کے مبینہ تبادلے اور رکھنے کا الزام تھا، تاہم پولیس کی جانب سے باضابطہ تفتیش اور پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع ہونے سے پہلے ہی اسے فوری طور پر واپس بلا لیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ شخص جنوبی لندن کے علاقے واکس ہال میں قائم امریکی سفارت خانے میں خدمات انجام دے رہا تھا۔ اگرچہ وہ کوئی روایتی یا اعلیٰ درجے کا سفارت کار نہیں تھا، تاہم اسے اپنے فرائض کی نوعیت کی وجہ سے سفارتی تحفظ حاصل تھا۔ اسی سفارتی استثنا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے برطانوی پولیس کے سامنے پیش ہونے یا باضابطہ انٹرویو دینے سے بچا لیا گیا اور وہ باآسانی ملک چھوڑ کر چلا گیا۔ اس اقدام نے برطانوی قانونی حلقوں میں شدید حیرت اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ اس طرح کے سنگین جرائم میں ملوث افراد کا قانون کے کٹہرے سے بچ نکلنا عدل و انصاف کے تقاضوں کے منافی سمجھا جا رہا ہے۔
اس معاملے پر برطانوی اور امریکی حکام کے درمیان رابطے جاری ہیں، تاہم سفارتی استثنا کے قوانین کی وجہ سے پولیس کے لیے اس نوعیت کے کیسز میں تفتیش کو آگے بڑھانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ قانون دانوں کا کہنا ہے کہ سفارتی تحفظ کا مقصد ریاستوں کے مابین سفارتی تعلقات کو آسان بنانا ہے، نہ کہ سنگین نوعیت کے فوجداری جرائم اور بالخصوص بچوں کے حقوق کی پامالی یا جنسی استحصال سے جڑے جرائم میں ملوث افراد کو بچانا۔ اس واقعے کے بعد عوامی سطح پر بھی شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس طرح کے حساس معاملات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے۔