World
ایران جنگ اور برکس اتحاد: نئے عالمی نظام کی تلاش اور داخلی تقسیم
برکس کے اراکین اس بات پر متفق ہیں کہ انہیں ایک نئے عالمی نظام کی ضرورت ہے، تاہم اس کی جگہ کیا لایا جائے اور وہاں تک کیسے پہنچا جائے، یہ طے کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ایران کی حالیہ جنگ نے اس گروپ کے اندرونی اتحاد کو جہاں ایک طرف نئی جہت بخشی ہے، وہیں اس میں پائے جانے والے نظریاتی اختلافات کو بھی واضح کر دیا ہے۔
برکس (BRICS) تنظیم کے اراکین کے درمیان یہ بات اب تیزی سے طے پا رہی ہے کہ عالمی سطح پر ایک نئے نظام کی اشد ضرورت ہے جو مغربی تسلط کو چیلنج کر سکے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی متفقہ لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔ حال ہی میں مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران کے گرد گھومنے والی جنگی صورتحال اور کشیدگی نے برکس ممالک کے باہمی تعلقات کو ایک بالکل نئی شکل دے دی ہے۔ اس تنازع نے دنیا بھر کی معیشتوں اور سفارتی صف بندیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے اثرات برکس کے پلیٹ فارم پر بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ تمام اراکین اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ عالمی ڈھانچہ غیر منصفانہ ہے اور اسے تبدیل کیا جانا چاہیے، لیکن اس سوال پر گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں کہ اس کی جگہ کون سا نظام لایا جائے اور اس منزل تک پہنچنے کا درست راستہ کیا ہوگا۔ بعض ممالک اس معاملے میں زیادہ جارحانہ موقف کے حامی ہیں جبکہ کچھ اراکین محتاط سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایران کی جنگ نے اس مباحثے کو مزید تیز کر دیا ہے کیونکہ توانائی کی سپلائی، عالمی تجارت اور سلامتی کے امور پر تمام ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
اس صورتحال نے ایک طرف تو برکس کو عالمی پلیٹ فارم پر اپنی اہمیت بڑھانے کا موقع فراہم کیا ہے، تو دوسری طرف اس کی اندرونی صفوں میں موجود تضادات کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ تنظیم کے اندر موجود معاشی اور سیاسی تنوع کی وجہ سے کسی بھی بڑے اور دوٹوک فیصلے پر پہنچنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ رکن ممالک کے درمیان اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ کس طرح امریکی ڈالر کے غلبے کو کم کیا جائے اور متبادل مالیاتی نظام تشکیل دیا جائے، لیکن اس عمل میں بھی رفتار اور طریقہ کار پر اتفاق رائے کا فقدان ہے۔
آنے والے دنوں میں برکس کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ یہ ممالک اپنے باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر کس حد تک ایک مربوط حکمت عملی تیار کر پاتے ہیں۔ ایران کے گرد منڈلاتے جنگی خطرات اور عالمی طاقتوں کی کشمکش کے اس دور میں، برکس کے لیے خود کو ایک سنجیدہ اور پائیدار متبادل کے طور پر پیش کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اگر تنظیم نے بروقت مشترکہ فیصلے نہ کیے تو اس کے اتحاد کو سنجیدہ نوعیت کے دھچکے لگ سکتے ہیں۔