World
یمن سے جبوتی کی طرف ہجرت، حوثی پیش قدمی کے بعد دو ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور
یمن کے مغربی ساحل پر جاری شدید لڑائی کے باعث دو ہزار سے زائد یمنی باشندے بحیرہ احمر عبور کر کے جبوتی پہنچ گئے ہیں۔ علاقائی کشیدگی میں اضافے کے بعد نقل مکانی کرنے والے ان افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔
یمن کے مغربی ساحل کے قریب حوثی فورسز کی پیش قدمی اور شدید جھڑپوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں لڑائی اتنی شدت اختیار کر گئی ہے کہ عام شہریوں کے لیے اپنے گھروں میں رہنا ناممکن ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے مجبور ہو کر لوگوں نے نقل مکانی کا رستہ اپنایا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، دو ہزار سے زائد یمنی باشندے اپنی جانیں بچانے کے لیے بحیرہ احمر عبور کر کے جبوتی پہنچ چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مہاجرین کی اس بڑی تعداد کو جبوتی کی بندرگاہوں اور سرحدی علاقوں میں پہنچنے پر شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ افراد انتہائی کسمپرسی کی حالت میں پہنچے ہیں کیونکہ وہ اپنا تمام تر سامان اور اثاثے پیچھے چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ بین الاقوامی فلاحی تنظیمیں اور مقامی ادارے ان یمنی پناہ گزینوں کی عارضی رہائش اور خوراک کی فراہمی کے لیے فوری بنیادوں پر امدادی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں تاکہ اس انسانی المیے سے نمٹا جا سکے۔
یمن میں جاری تنازع کئی سالوں سے لاکھوں افراد کو متاثر کر رہا ہے، اور حالیہ عسکری پیش قدمی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر لڑائی کا یہ سلسلہ نہیں رکا تو نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے خطے میں پناہ گزینوں کا ایک اور بڑا بحران جنم لے سکتا ہے۔ عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے اور متاثرہ یمنی شہریوں کی مدد کے لیے آگے آئے۔