World
ایران خلیج تعاون کونسل اجلاس عمان، علاقائی سلامتی اور بحرین کی عدم شرکت
علاقائی سلامتی کو فروغ دینے کے لیے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان عمان میں اہم مذاکرات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس میں عراق بھی شریک ہے جبکہ بحرین کی جانب سے شرکت نہ کرنے کی وجوہات پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ خطے میں مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عراق اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ سلطنت عمان میں اہم مذاکرات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ سفارتی اقدام مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں تمام فریقین علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے پر غور کریں گے۔ ماہرین کے مطابق، عمان کی میزبانی میں ہونے والے یہ مذاکرات خلیجی خطے میں طویل المدتی امن کے قیام کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس سے تہران اور خلیجی دارالحکومتوں کے درمیان براہ راست بات چیت کا راستہ ہموار ہوگا۔ دوسری جانب، اس اہم ترین سفارتی اجلاس میں بحرین کی عدم شرکت نے بین الاقوامی سیاسی مبصرین کی توجہ مبذول کروا دی ہے۔ بحرین کی طرف سے اس سیشن میں شرکت نہ کرنے کے پیچھے بعض پرانے سفارتی تحفظات اور علاقائی تنازعات کارفرما بتائے جاتے ہیں، جن کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں اب بھی کچھ تناؤ پایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود، دیگر خلیجی ممالک اور ایران کے مابین ہونے والے ان مذاکرات کو خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس ملاقات کے دوران تجارت، میری ٹائم سیکیورٹی اور بارڈر مینجمنٹ جیسے اہم موضوعات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوگی، جو مستقبل میں خلیج فارس کے خطے کے امن اور خوشحالی کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔