LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں فائیو جی کی خرابی، دیہاتیوں کا ٹیکنیشن پر تشدد اور ٹاور سے باندھنے کا واقعہ

News Image
بھارت میں فائیو جی انٹرنیٹ سروس کی طویل بندش اور خرابی سے تنگ آ کر دیہاتیوں نے غصے میں آ کر ایک ٹیلی کام ٹیکنیشن کو موبائل ٹاور سے باندھ دیا۔ پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
بھارت کے ایک دیہی علاقے میں فائیو جی (5G) انٹرنیٹ سروس کی مسلسل خرابی اور سگنلز نہ آنے کے باعث غصے میں بپھرے ہوئے دیہاتیوں نے ایک ٹیلی کام ٹیکنیشن کو مبینہ طور پر موبائل ٹاور سے باندھ دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب علاقے میں طویل عرصے سے مواصلاتی نظام درہم برہم تھا اور صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ متعدد بار شکایات درج کرانے کے باوجود متعلقہ ٹیلی کام کمپنی نے سروس کی بہتری کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا، جس کی وجہ سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا تھا۔ جب مذکورہ ٹیلی کام کمپنی کا ایک ٹیکنیشن معمول کے دورے یا خرابی دور کرنے کے لیے علاقے میں پہنچا، تو مشتعل دیہاتیوں نے اسے گھیر لیا۔ صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب لوگوں نے ٹیکنیشن سے فائیو جی سروس کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ بات بڑھنے پر دیہاتیوں نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکنیشن کو مبینہ طور پر رسوں کی مدد سے قریبی موبائل ٹاور کے ساتھ باندھ دیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئی ہے جس میں مقامی لوگوں کو شدید احتجاج کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ پولیس حکام نے مداخلت کرتے ہوئے ٹیکنیشن کو دیہاتیوں کی قید سے چھڑایا اور اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ انٹرنیٹ کی خرابی کے اسباب کا بھی پتہ لگایا جا سکے اور قانون کو ہاتھ میں لے کر کسی کو بھی تشدد کا نشانہ بنانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ دوسری جانب، ٹیلی کام کمپنی کے حکام نے اس افسوسناک واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کی خرابی تکنیکی وجوہات کی بنا پر تھی جسے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، تاہم اپنے ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنانا اور یرغمال بنانا کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں مواصلاتی نظام کی بہتری اور ملازمین کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ مقامی صارفین بدستور نیٹ ورک کے مسائل سے دوچار ہیں۔