World
یمن کا انسانی بحران: لڑائی میں تیزی کے بعد حالات تشویشناک
یمن میں تازہ جھڑپوں اور جنگ کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کی وجہ سے ملک بھر میں انسانی بحران انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ عالمی اداروں نے یمنی عوام کو درپیش غذای قلت اور طبی سہولیات کے فقدان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یمن میں حالیہ دنوں کے دوران لڑائی کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد ملک میں انسانی بحران مزید سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ اس تازہ ترین شدت پسندی نے پہلے سے ہی جنگ زدہ ملک میں لاکھوں شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، جہاں بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر لڑائی فوری طور پر بند نہ کی گئی اور متاثرہ علاقوں تک رسائی بحال نہ کی گئی تو بھوک اور بیماریوں کے باعث ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، تنازعے کے نئے سلسلے کی وجہ سے ہزاروں خاندان اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جو اب عارضی کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان علاقوں میں صاف پانی، خوراک اور ادویات کی شدید قلت پائی جاتی ہے، اور طبی مراکز ادویات اور عملے کی کمی کے باعث اپنے فرائض بخوبی انجام دینے سے قاصر ہیں۔ یمن کے بچوں اور خواتین کو اس بحران کی سب سے زیادہ قیمت چکانا پڑ رہی ہے، جہاں غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
بین برصغیر اور عالمی برادری نے یمن کے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی پر عمل درآمد کریں اور مذاکرات کی میز پر آئیں تاکہ خطے میں جاری اس انسانی المیے کو روکا جا سکے۔ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل امدادی سامان کی ترسیل کے لیے محفوظ راستے فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں، تاہم سیکیورٹی خدشات اور جاری جھڑپوں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید رکاوٹیں حائل ہیں۔ اگر عالمی سطح پر فوری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو آنے والے ہفتوں میں یمن کے اندر انسانی المیہ مزید ہولناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔