World
ایران تنازع اور برکس ممالک کا عالمی سیاست میں کردار
موجودہ مشرق وسطیٰ کا بحران اس بات کا عکاس ہے کہ برکس بلاک اپنی اقتصادی طاقت کو سیاسی اثر و رسوخ میں تبدیل کرنے سے قاصر ہے۔ تاہم اس تمام صورتحال میں کچھ مثبت معاشی اور سفارتی پہلو بھی پوشیدہ ہو سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر رونما ہونے والے حالیہ واقعات بالخصوص ایران اور اس کے اتحادیوں کے گرد گھومتی کشیدگی نے اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کا اتحاد 'برکس' اپنی معاشی برتری کو دنیا میں موثر جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ میں ڈھالنے میں تاحال ناکام دکھائی دیتا ہے۔ اس جنگ اور خطے کے بڑھتے ہوئے تنازعات نے اس بات پر گہری بحث چھوٹی ہے کہ آیا یہ تنظیم عالمی بحرانوں کے دوران کوئی فیصلہ کن سفارتی یا عسکری کردار ادا کرنے کی سکت رکھتی ہے یا نہیں۔ برکس کے رکن ممالک کے اپنے الگ اسٹریٹجک مفادات ہیں اور ان میں باہمی یکسوی کا فقدان اس کی بڑی وجہ ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ بلاک دنیا کی مجموعی جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ کنٹرول کرتا ہے، لیکن جب بات عالمی امن یا کسی بڑی جنگ کو روکنے کی آتی ہے تو اس کا سفارتی وزن غیر موثر ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود، اس ساری صورتحال میں ایک مثبت پہلو یا سلور لائننگ بھی موجود ہو سکتی ہے۔ اس بحران کی وجہ سے برکس ممالک کے اندرونی نظام کو مزید مضبوط کرنے اور اپنے اراکین کے درمیان کثیر الجہتی تعاون کو وسعت دینے کی فوری ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ کٹھن وقت بلاک کے لیے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے اور مستقبل کے ممکنہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک نیا لائحہ عمل تیار کرنے کا بہترین موقع فراہم کر رہا ہے، تاکہ معاشی طاقت کے ساتھ ساتھ سفارتی وزن بھی حاصل کیا جا سکے۔