LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں حوثیوں کی کشیدگی اور بحیرہ احمر کا نیا محاذ

News Image
یمن میں حوثیوں اور ایران کی طرف سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مقصد عالمی سطح پر سیاسی برتری حاصل کرنا ہے۔ تاہم اس اقدام کے نتیجے میں بحیرہ احمر میں ایک طاقتور اور متحد عالمی محاذ تشکیل پا سکتا ہے۔
یمن میں حوثی باغیوں اور ایران کی جانب سے جاری حالیہ کشیدگی اور جارحانہ اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ حوثی فورسز کا بنیادی مقصد خطے میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنا اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی فائدہ اٹھانا ہے۔ مبصرین کے مطابق، ان کارروائیوں کا مقصد عالمی طاقتوں کو دباؤ میں لانا ہے تاکہ وہ اپنے مطالبات منوا سکیں۔ تاہم، اس حکمت عملی کے منفی نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں جو حوثیوں اور تہران دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں۔ بین الاقوامی سلامتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جارحیت سے بحیرہ احمر کے خطے میں حریف قوتیں مزید قریب آ سکتی ہیں اور ایک مضبوط و متحد فرنٹ وجود میں آ سکتا ہے۔ جب سمندری گزرگاہیں خطرے میں پڑتی ہیں تو دنیا کے اہم ممالک اپنے تجارتی اور دفاعی مفادات کے تحفظ کے لیے یکجا ہوجاتے ہیں۔ بحیرہ احمر دنیا کے مصروف ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر تیل اور دیگر اہم سامان سے لدے بحری جہاز گزرتے ہیں۔ اس سمندری راستے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا خطرہ عالمی معیشت کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ اسی وجہ سے مختلف ممالک اس خطے میں اپنے بحری گشت کو بڑھانے اور سیکورٹی تعاون کو مضبوط کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ نتیجتاً، اگر حوثی اور ایران اپنے ان اقدامات کو جاری رکھتے ہیں تو وہ اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے بجائے الٹا ایک ایسے مشترکہ محاذ کا سامنا کر سکتے ہیں جو ان کی عسکری صلاحیتوں اور سیاسی اثر و رسوخ کو بری طرح متاثر کرے گا۔ عالمی برداری کی جانب سے اس قسم کی کشیدگی کا سخت جواب دینے کی تیاریوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خطے میں یکطرفہ دباؤ کی پالیسی زیادہ دیر تک کامیاب نہیں ہو سکتی۔