LIVE
Loading Breaking News...

برکس سمٹ 2026: اہم نکات اور عالمی سیاست پر اثرات

News Image
برکس کے گیارہ رکنی بلاک نے حالیہ سربراہی اجلاس کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی مذمت کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس معاملے پر رکن ممالک کے درمیان پائے جانے والے واضح اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
برکس کا گیارہ رکنی بلاک ایک بار پھر عالمی سطح پر اہم فیصلوں اور مباحثوں کا مرکز بن گیا ہے، تاہم حالیہ سربراہی اجلاس کے دوران بین الاقوامی امور پر رکن ممالک کے درمیان موجود تضادات بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ اجلاس کی کارروائی کے دوران سب سے نمایاں اور متنازع نکتہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے مؤقف اختیار کرنا تھا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، یہ گیارہ رکنی تنظیم اس حساس معاملے پر کسی بھی قسم کی باضابطہ مذمت یا سخت مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے سے گریزاں نظر آئی، جس نے مبصرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برکس بلاک میں شامل مختلف ممالک کے اپنے اسٹریٹجک اور معاشی مفادات ہیں جو بعض اوقات ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں۔ روس اور چین جیسے ممالک جہاں مغرب بالخصوص امریکہ کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں، وہیں دیگر کئی رکن ممالک امریکہ اور مغربی دنیا کے ساتھ اپنے قریبی معاشی تعلقات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ جیسے انتہائی حساس اور پیچیدہ جیو پولیٹیکل مسئلے پر اتفاق رائے قائم کرنا بلاک کی قیادت کے لیے ایک کڑا امتحان بن گیا۔ اتحاد کے اندر اس قسم کے اختلافات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ برکس کو ایک مؤثر اور یکسو عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے کے لیے تاحال طویل سفارتی سفر طے کرنا ہے۔ اس اجلاس کے دوران دیگر اقتصادی اور مالیاتی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں امریکی ڈالر کے غلبے کو کم کرنے کے لیے متبادل تجارتی نظام اور مقامی کرنسیوں میں تجارت کا فروغ شامل ہے۔ اگرچہ اقتصادی میدان میں ممالک نے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، لیکن سیاسی نوعیت کے تنازعات اور بین الاقوامی بحرانوں پر مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے میں ناکامی نے اس تنظیم کی فیصلہ سازی کی صلاحیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر برکس نے مستقبل میں عالمی سیاست میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہے تو اسے اپنے اندرونی اختلافات کو پس پشت ڈال کر متفقہ خارجہ پالیسی کے اصولوں پر کاربند ہونا پڑے گا، ورنہ عالمی بحرانوں کے وقت یہ بلاک غیر مؤثر دکھائی دیتا رہے گا۔