World
ایرانی خاندانوں کے لیے باعزت زندگی کا حصول ناممکن، معاشی دباؤ میں اضافہ
امریکہ کے ساتھ جاری جنگی صورتحال اور معاشی دباؤ کی وجہ سے عام ایرانی خاندانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مسلسل تنزلی اور بہتری کی کوئی امید نہ ہونے کی وجہ سے عوام میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔
موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی کشیدگی بالخصوص امریکہ کے ساتھ جاری تناؤ نے ایران کے عام شہریوں کی زندگی کو انتہائی اجن اور مشکل بنا دیا ہے۔ ملک میں معاشی حالات دن بہ دن بدتر ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے عام ایرانی خاندانوں کے لیے روزمرہ کی بنیادی ضروریاتِ زندگی پورا کرنا بھی ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایک باعزت اور پرسکون زندگی گزارنا اب ان کے لیے محض ایک دور کا خواب بن کر رہ گیا ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عائد کردہ سخت اقتصادی پابندیوں اور جنگی ماحول نے ملک کے صنعتی اور تجارتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مہری اور مہنگائی کی آسمان چھوتی شرح نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ شہریوں کے پاس نہ تو روزگار کے بہتر مواقع ہیں اور نہ ہی مستقبل میں حالات کی بہتری کی کوئی حقیقی امید نظر آ رہی ہے، جس کی وجہ سے معاشرے میں بے چینی اور مایوسی پھیل رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان معصوم شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے جو سیاسی اور عسکری کشیدگی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ کی وجہ سے لوگوں کی جمع پونجی ختم ہو چکی ہے۔ حکومت کے تمام تر دعوؤں کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی ہے، جس سے عام آدمی کا مورال انتہائی درجے تک گر چکا ہے۔
ایران کے طول و عرض میں عوام اب اس بات پر شاکی ہیں کہ عالمی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک خطے میں کشیدگی کا خاتمہ اور بین الاقوامی سطح پر مذاکرات کا آغاز نہیں ہوتا، عام ایرانیوں کی زندگیوں میں بہتری کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔ موجودہ حالات میں ہر آنے والا دن عوام کے لیے نئی مشکلات اور پریشانیاں لے کر آ رہا ہے۔