LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، علاقائی کشیدگی پر گفتگو

News Image
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے حالیہ حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، حالیہ دنوں میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور شہری ڈھانچے پر حملے کیے گئے ہیں جن کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں، عراق سے داغے گئے ڈرونز کے ذریعے ایک اہم سعودی آئل پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف خطے کا امن و سلامتی خطرے میں پڑتی ہے بلکہ اس سے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی بھی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ گفتگو کے دوران وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کو واضح کیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی تمام تر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ وزیراعظم نے اس بحران کے دوران سعودی قیادت کی جانب سے دکھائی جانے والی تدبر اور دانشمندی کی بھی بھرپور تحسین کی۔ دوسری جانب، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے مشکل وقت میں پاکستان کے غیر متزلزل تعاون اور خطے کے استحکام کے لیے اس کے کردار کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی باہمی رابطے جاری رکھنے اور جلد ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ یاد رہے کہ اگست کے مہینے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی طے پایا تھا جس کا مقصد اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ اگرچہ پاکستانی دفتر خارجہ واضح کر چکا ہے کہ اس معاہدے کو تاحال کسی عسکری کارروائی کے پس منظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، تاہم پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے ہر ممکن سفارتی کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔