LIVE
Loading Breaking News...

مرکز میں سیاسی اتحادیوں کی اختلافات کے باوجود ساتھ کام کرنے کی حامی

News Image
وفاقی حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے تمام تر اختلافات کے باوجود مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور قانون سازی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے رابطے جاری ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں سیاسی منظر نامے پر ایک بار پھر اہم ہلچل دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں مرکز میں موجود اتحادی جماعتوں نے تمام تر سیاسی اور پالیسی سطح کے اختلافات کے باوجود مل کر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پچھلے کچھ عرصے سے دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے باہمی رنجشیں اور تناؤ کو ختم کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل پر غور شروع کر دیا ہے تاکہ ملکی سیاسی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان حالیہ دنوں میں ہونے والی بات چیت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ موجودہ ملکی حالات اور معاشی چیلنجز کے پیش نظر باہمی محاذ آرائی سے گریز کیا جائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے پارلیمانی امور اور قانون سازی کے حوالے سے اپنے مؤقف میں لچک کے اشارے بھی ملے ہیں، جس سے حکومتی اتحاد کو پارلیمنٹ میں درپیش قانون سازی کے مراحل میں آسانی متوقع ہے۔ اتحادی جماعتوں کی قیادت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ سیاسی عدم استحکام کے معیشت اور عام عوام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے مفاہمت کی فضا کو بحال رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ دوسری جانب، اہم امور اور معاشی بلوں پر دونوں جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ جی آئی ڈی سی بل سمیت کئی دیگر اہم مالیاتی اور انتظامی امور پر اب بھی کچھ معاملات حل طلب ہیں جہاں اربوں روپے کی وصولیوں کا معاملہ التوا کا شکار ہے۔ تاہم، سیاسی قیادت کی سطح پر ان اقتصادی اور پالیسی نوعیت کے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے سلجھانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ اتحادیوں کے مفادات میں کئی مقامات پر تضاد پایا جاتا ہے، لیکن اقتدار کی مجبوریوں اور مشترکہ سیاسی مستقبل کی خاطر یہ 'عجیب و غریب' اتحادی مرکز میں مل کر چلنے پر مجبور ہیں۔ آنے والے دنوں میں دونوں جماعتوں کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا ایک اور سلسلہ متوقع ہے جس میں حکومت کے آئندہ کے لائحہ عمل اور پارلیمنٹ میں تعاون کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔ عوام اور کاروباری برادری کی نظریں بھی اس سیاسی اتحاد پر مرکوز ہیں کیونکہ کسی بھی بڑی سیاسی کشیدگی سے ملک کا انتظامی ڈھانچہ اور ترقیاتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں، اتحادی جماعتوں کی طرف سے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر تعاون کا عزم ظاہر کرنا ملکی سیاسی استحکام کے لیے ایک مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے۔