Pakistan
بلوچستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ اور عوامی حمایت
بلوچستان میں نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے کو عوام کی طرف سے زبردست پذیرائی اور حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی اس اہم موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، صوبے کے رہائشیوں نے نئے صوبوں کے قیام کے دیرینہ مطالبے کی پرزور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں سیاسی حلقوں اور عوامی سطح پر یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ انتظامی امور کو بہتر بنانے اور محرومیوں کے خاتمے کے لیے صوبے کی تقسیم ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس تناظر میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی نئے صوبوں کے قیام کے حق میں آواز بلند کی ہے، جس سے اس بحث کو ایک نئی سمت ملی ہے۔
دوسری جانب، صوبے کے مجموعی امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی مختلف فورمز پر گہرے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ حال ہی میں منعقدہ ایک کثیر جماعتی کانفرنس کے دوران بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور امن عامہ کے چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سیکیورٹی حکام کا اس موقع پر دوٹوک مؤقف تھا کہ جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، ریاست کی جانب سے بھرپور آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے۔
اس کے باوجود، سیاسی اور عسکری سطح پر اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ گولی کے بجائے بات چیت اور ڈائیلاگ ہی پائیدار امن کی اصل کنجی ہیں۔ سینئر سیکیورٹی حکام کے مطابق، ناراض عناصر کو مین اسٹریم میں لانے اور صوبے میں دیرپا استحکام کے لیے سیاسی افہم و تفہیم کا راستہ اپنانا انتہائی ضروری ہے۔ عوام اور مبصرین کا ماننا ہے کہ انتظامی بہتری، نئے صوبوں کی تشکیل اور امن مذاکرات جیسے اقدامات بیک وقت آگے بڑھائے جائیں تو بلوچستان میں ترقی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔