World
انڈونیشیا کشتی حادثہ: جاوا کے قریب مسافر جہاز ڈوبنے سے 130 افراد لاپتہ
انڈونیشیا کے سمندر میں مسافر کشتی الٹنے کے المناک حادثے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ریسکیو اداروں کی جانب سے حادثے کے بعد لاپتہ ہونے والے ایک سو تیس سے زائد افراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
انڈونیشیا کے ساحل کے قریب جاوا سمندر میں ایک مسافر کشتی الٹنے کے نتیجے میں خوفناک حادثہ پیش آیا ہے جس کے بعد حکام نے بڑے پیمانے پر ریسکیو اور سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں کم از کم چھ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ تقریبا ایک سو تیس سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ پانی میں ڈوبنے والے مسافروں کو تلاش کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام اور امدادی ایجنسیوں کے مطابق یہ حادثہ خراب موسمی حالات اور تیز لہروں کے باعث پیش آیا جس نے مسافر بردار جہاز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کشتی کے ڈوبنے کی اطلاع ملتے ہی انڈونیشیا کی قومی تلاشی اور بچاؤ ایجنسی نے فوری طور پر اپنے اہلکاروں اور بحری جہازوں کو جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دیا۔ ماہر غوطہ خوروں اور مختلف بحری بیڑوں کی مدد سے سمندر کے وسیع رقبے پر لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کا کام دن رات جاری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ زندگیاں بچائی جا سکیں۔
اب تک ریسکیو ٹیموں نے کئی مسافروں کو بحفاظت نکال لیا ہے جنہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ ہلاک شدگان کی لاشوں کو ضروری کارروائی کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت کشتی میں سوار مسافروں کی حتمی تعداد کے حوالے سے تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں تاکہ لاپتہ افراد کا درست تخمینہ لگایا جا سکے۔ اس سانحے نے ایک بار پھر سمندری سفر کی حفاظتی تدابیر اور انڈونیشیا کے جزائر کے درمیان سفر کرنے والے مسافر بردار جہازوں کے نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
مقامی انتظامیہ اور حکومت نے متاثرہ خاندانوں سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ لواحقین کے لیے امدادی کیمپ بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر بھی اس حادثے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو حکام کا عزم ہے کہ جب تک تمام لاپتہ افراد کا سراغ نہیں مل جاتا، یہ تلاش کا آپریشن پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گا تاکہ ہر ممکنہ انسانی جان کو بچایا جا سکے۔